حسین حقانی کا “انکشاف” اور چار لفظ “جوڑنے” کی صلاحیت

اکلوتا بیٹا مرگیا تو ماں غم سے نڈھال، مگر باپ کی حالت قدرے بہتر۔ بیٹے کے غم میں گھلنے والی ماں نے ایک دن پوچھا کہ جوان اولاد ہمیں چھوڑ گئی ہے۔ لیکن آپ اس کا اثر نہیں لے رہے۔ شوہر نے کہا کہ مجھے اپنے بیٹے سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ میرے بڑھاپے کا سہارا تھا۔ لیکن بیٹے کے انتقال کی رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ اس خواب نے میری پریشانی بہت حد تک کم کردی۔ جواں سال بیٹے کے غم میں ڈوبی ہوئی ماں نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو شوہر نے بتایا: میں نے خواب دیکھا کہ میرے 100 بیٹے ہیں۔ ایک دن جب میں گھر میں داخل ہوا تو پتا چلتا ہے کہ میرے سو کے سو بچے اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں۔ اس وقت یہ سن کر مجھ پر کیا گزری ہوگی۔ بس یوں لگا جیسے میرا سینہ پھٹ جائے گا اور کلیجہ باہر کو نکل آئے گا۔ میں پسینے میں شرابور تھا۔ آواز حلق میں پھنس چکی تھی۔ لیکن جب آنکھ کھلی اور حقیقت کی دنیا میں آیا تو پتا چلا کہ میرے صرف ایک ہی بیٹے نے داغِ مفارقت دیا ہے۔ اب مجھے ایک بیٹے کا غم ستاتا ہے تو اپنے وہ ’’سو بیٹے‘‘ یاد کرلیتا ہوں۔

جب پاکستان پیپلزپارٹی کی راہنما اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر میرے شو میں گفتگو کر رہی تھیں اور بتارہی تھیں کہ آج حسین حقانی کی ایک سطر پر شور مچایا جا رہا ہے، حالانکہ اس سے پہلے وہ انڈیا میں کئی لیکچرز کے دوران اس سے زیادہ سخت اور تلخ باتیں کرچکے ہیں تو میرے ذہن میں یہ واقعہ گردش کررہا تھا۔ میں حنا ربانی کھر سے مکمل اتفاق کرتی ہوں۔ حسین حقانی کی شخصیت اور ان کے بارے میں جاننے والوں کے لیے ان کے تازہ ’’انکشافات‘‘ کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ’’میمو گیٹ اسکینڈل‘‘ کے مطابق پاک فوج کے خلاف انہوں نے امریکا سے تعاون مانگا۔ اپنی کتابوں میں وہ بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور جو کچھ اپنی گفتگوئوں میں کہتے رہے ہیں، یہ تازہ ’’انکشاف‘‘ ان کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ لیکن اس کے باوجود اس ایک ’’سطر‘‘ نے ہمارے ہاں زلزلہ برپا کردیا۔ پاکستان میں اخبارات کی شہ سرخیاں بنیں اور ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز شروع ہوگئے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر راہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے انہیں ایک طرف ’’توجہ کا طالب‘‘ اور انہیں نظرانداز کردینے کا مشورہ دیا تو دوسری طرف ’’غدار‘‘ جیسا سنگین الزام ان پر دھر دیا۔ اس کی بازگشت پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمانی کمیشن کا مطالبہ کر ڈالا۔

حکمران لیگ کے سینئر راہنما نے کہا کہ حسین حقانی کے آرٹیکل پر اپوزیشن لیڈر کی طرف سے صرف ’’غدار‘‘ کہہ دینے سے جان نہیں چھوٹ سکتی۔ اسامہ بن لادن کا ہماری سرزمین پر مرنا ہمارے لیے مسائل بڑھارہا ہے۔ یہ معاملہ قومی سلامتی کا ہے اور ہر تین ماہ بعد اٹھایا جارہا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ حسین حقانی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف اس انداز سے یہ سب فرما رہے تھے جیسے وہ کسی اپوزیشن جماعت سے تعلق رکھتے ہوں اور اختیار و اقتدار کی حامل کسی حکومت سے کارروائی کے متمنی ہوں۔ حیرت کی بات ہے ان سے کسی نے اسمبلی میں یہ سوال نہیں کیا کہ خواجہ صاحب! آپ جس حکومت کے وزیر دفاع ہیں، اس کاکام تقریریں کرنا نہیں، عملی اقدام اُٹھانا ہے۔ کیا آپ کو یاد نہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں آپ کے قائد میاں نواز شریف کالا کوٹ پہن کر عدالت گئے اور عدالت کے باہر میمو گیٹ کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے کئی بار اعلانات کرچکے ہیں۔ حکومت میں آنے کے باوجود اس پر یہ خاموشی کیوں؟ آپ 4 سال سے اقتدار میں ہیں۔ سیاہ وسفید کے مالک ہیں۔ کیا آپ کا فرض نہیں بنتا کہ جن پر سنگین الزامات لگے، انہیں کٹہرے میں لاکھڑا کرتے؟ آج ’’پارلیمانی کمیشن‘‘ کا مطالبہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔ اس قسم کے بیانات سے کچھ ووٹ بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں، لیکن آپ جانتے ہیں کہ ’’کمیشنوں‘‘ اور ’’کمیٹیوں‘‘ کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ایبٹ آباد، ڈان لیکس، ماڈل ٹائون اور کوئٹہ کمیشن کی رپورٹس تو آپ ہی کے اشارہِ ابرو کی منتظر ہیں۔

جہاں تک حسین حقانی کا تعلق ہے، وہ ایک ذہین مگر چالاک شخص ہیں۔ آپ اس سے اندازہ لگالیں کہ جنرل ضیاء الحق کے نفس ناطقہ رہنے کے بعد ایک طرف میاں نوازشریف کے لیے خدمات انجام دیں تو دوسری طرف محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو شیشے میں اُتارنے میں کامیاب رہے۔ دونوں سیاست دانوں کا طرزِ سیاست ایک دوسرے سے مختلف، مزاجوں میں زمین آسمان کا فرق، لیکن حسین حقانی دونوں کو باور کرانے میں کامیاب رہتے ہیں کہ میں آپ کا وفادار دوست اور خدمت گزار ساتھی ہوں۔ وہ امریکا کو بھی یہ یقین دلانے کی سرتوڑ کوششیں کرنے میں سرخرو رہتے ہیں کہ وہ اس کی خاطر بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ حقانی میں خوداعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری ہے، اور اسی خوداعتمادی نے انہیں کسی حد تک مغرور بھی بنادیا ہے۔ چند روز قبل جب میں نے اپنے شو میں ان کے تازہ مضمون سے متعلق سوال کیا تو قدرے رعونت کے ساتھ پاکستانی میڈیا اور صحافیوں پر برس پڑے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستانی صحافی انگریزی کے چار لفظ جوڑ نہیں سکتے اور میرے مضمون پر تبصرے کررہے ہیں۔ انہیں پاکستانی میڈیا، خصوصاً چینلوں سے شکایت ہے، جبکہ ان کے خیال میں امریکا اور دیگر 90 ممالک کا میڈیا نہ صرف انہیں مکمل سنتا ہے، بلکہ وہ پاکستانی میڈیا سے بہت مختلف بھی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ درست کہہ رہے ہوں۔ ہم واقعی ابھی ’’میچور‘‘ نہ ہوئے ہوں، لیکن حسین حقانی امریکی میڈیا کی مثالیں دیتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک تو وہ خود اسی پاکستانی میڈیا کی ہی پیداوار ہیں، اسی کے بل پر انہوں نے یہ مقام حاصل کیا ہے، پھر امریکی میڈیا بھی اتنا ’’میچور‘‘ نہیں جتنا وہ اسے سمجھ رہے ہیں۔

کئی واقعات ذہن میں آرہے ہیں۔ بوسٹن میراتھن کے دوران دھماکا بہت سوں کو یاد ہوگا جب کوریج کرتے ہوئے مشہور زمانہ سی این این نے حملہ آور کی غلط معلومات دیں۔ ’’فاکس نیوز‘‘ نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور گرفتار ہوگیا۔ واشنگٹن میں نیوی یارڈ میں ستمبر میں حملہ ہوا تو امریکا کے دو بڑے چینلز ’’این بی سی نیوز‘‘ اور ’’سی بی ایس‘‘ نے غلط آدمی کو حملہ آور کے طور پر پیش کردیا۔ ’’دی گلوب‘‘ اور ’’میل‘‘ جیسے میڈیا ہائوسز نے تو حد کردی جب امریکی خفیہ ادارے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے سابق سربراہ مائیکل ہیڈن کی لاس اینجلس ایرپورٹ فائرنگ میں موت کی خبر چلا دی۔ این بی سی نیوز کی وہ خبر بھی بھول جانے کے قابل نہیں جب کینیڈا میں ٹرین دھماکے کی کوریج کی اور فیصلہ سنادیا کہ نیو ہمپشائر صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے۔ سی این این نے تو 2012ء میں نیلسن منڈیلا کو ہی موت کی وادی میں پہنچا دیا۔ آج بھی امریکی ریاست اور میڈیا آمنے سامنے ہیں اور وہاں کا میڈیا اپنے صدر کی تضحیک اور تحقیر میں تمام حدیں پار کرچکا ہے۔ پاکستانی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی کبھی یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ وہ کامل اور غلطیوں سے پاک ہیں، لیکن جس ’’میچور‘‘ اور ’’معتبر‘‘ میڈیا کا حسین حقانی پاکستان کے مقابلے میں بار بار حوالہ دے رہے ہیں، وہاں بھی یہ ’’بچکانہ‘‘ حرکتیں پورے زوروشور سے جاری رہتی ہیں۔ بس فرق اتنا ہے کہ وہاں اپنے آپ کو برا بھلا کہنے والوں کی تعداد اس قدر زیادہ نہیں جتنی ہم اس میں خودکفیل ہیں۔

حسین حقانی پڑھے لکھے اور ذہین شخص ہیں۔ وہ پاکستانی صحافیوں کو ’’اَن پڑھ‘‘ ہونے کا طعنہ دے سکتے ہیں۔ وہ پاکستانی میڈیا اور چینلز پر بھی گرج برس سکتے ہیں، لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج اگر وہ بھی چار لفظ ’’جوڑنے‘‘ کی صلاحیت رکھتے ہیں تو یہ صلاحیت انہیں اسی ’’ان پڑھ‘‘ صحافت اور اسی دھرتی کے طفیل حاصل ہوئی ہے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ ’’چار لفظ جوڑنے‘‘ کی یہ صلاحیت وہ اس دھرتی سے متعلق کسی مثبت کام میں صرف کریں۔ رہے ’’انکشافات‘‘! تو حسین حقانی کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک اس ملک سے متعلق ہم ’’انکشافات‘‘ ہی سنتے آرہے ہیں۔ یہ ملک اپنوں اور غیروں کے سیکڑوں نہیں، ہزاروں ’’انکشافات‘‘ کے باوجود آج بھی سلامت ہے اور سلامت رہے گا۔

By | 2017-04-22T12:28:39+00:00 March 19th, 2017|Columns|

Comments