تقسیم در تقسیم معاشرے میں مزید تقسیم، مزاج کو بدلنا ہوگا

عورت اپنے شوہر کے معیار پر پورا اُترنا چاہتی تھی، مگر کچھ ہی دنوں میں اسے اندازہ ہوگیا کہ یہ کام آسمان سے تارے توڑلانے کے مترادف ہے۔ تفصیل کچھ یوںہے کہ شادی کے چند دن بعد خاتون نے شوہر کے سامنے ناشتے میں آملیٹ رکھ دیا۔ شوہر آگ بگولا ہوا۔ کہنے لگا: تمہیں معلوم نہیں کہ مجھے انڈا فرائی پسند ہے۔ اگلے دن خاتون نے آملیٹ کے بجائے انڈا فرائی کردیا۔ شوہر نے یہ کہہ کر پلیٹ پٹخ دی کہ جو کل بنایا تھا، آج بھی وہی لے آتی۔ کل کھالیا ہے تو آج بھی کھالیتا۔ اگلی صبح آئی تو کپکپاتے ہاتھوں سے پکڑی ٹرے میں ایک انڈا فرائی اور ایک آملیٹ تھا۔ شوہر پر پاگل پن کا دورہ پڑا اور کہنے لگا: بے وقوف عورت! جو انڈا فرائی کرنا تھا، اس سے آملیٹ بنادیا۔ جس سے آملیٹ بنانا تھا، اسے فرائی کردیا۔

یہ لطیفہ ہے، کسی خاص گھر یا فرد کی کہانی نہیں، بدقسمتی سے یہ ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ مخالفت برائے مخالفت۔ دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے نان ایشوز کو ایشو بنادینا۔ پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ جو چیز آپ کو آج پسند ہے، کل اسی کی مخالفت شروع کردینا۔ جس چیز کی مخالفت کررہے ہیں، اگلے دن اس کا وکیل بن جانا بھی ہماری آنکھیں دیکھتی اور کان سنتے ہیں۔ آپ اپنی سیاست پر نظر ڈالیں۔ ہمارے ہاں اپوزیشن، حکومت کے ہر اقدام کی مخالفت کرتی نظر آتی ہے، لیکن جیسے ہی خود اقتدار کا حصہ بنتی ہے، انہی کاموںکی وکالت شروع کردیتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میںہوتی ہے تو کسی بھی حادثے کی صورت میں’’اخلاقی طور پر‘‘ حکومتی وزیر کا استعفیٰ ضروری سمجھتی ہے، مگر یہی ن لیگ حکومت میںآتی ہے تو کہانی مختلف ہوجاتی ہے۔ مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف سے گلہ کرتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتی اور ایشوز سڑکوںاور عدالتوں کے ذریعے حل کروانے پر تلی رہتی ہے۔ مگر یہی کام مسلم لیگ پیپلز پارٹی کے دور میں کرتی نظر آتی ہے۔

مزاجوں میں یہ افراط وتفریط گھروں میں ہو یا باہر گلی، محلے اور سڑکوں پر، کسی لحاظ سے قابل تحسین نہیں۔ گھروںمیں ہو تو خاندان میںجگ ہنسائی اور سیاست میںہو تو دنیا میں ملک مذاق بن کر رہ جاتا ہے۔ کوئی روز نہیں جاتا جب ہم ملکی سطح پر اپنا تماشا بنائے نہ رکھتے ہوں۔ گزشتہ دو ہفتوں سے جس طرح پی ایس ایل فائنل پر دنیا کے سامنے اپنا مذاق بنائے رکھا، افسوسناک ہے۔ فائنل لاہور میں ہونا چاہیے یا نہیں؟ حکومت نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنادیا تو دوسری طرف عمران خان اس کی مخالفت میں نکل پڑے۔ پہلے عمران خان کا خیال تھا کہ صرف فائنل ہی نہیں، پورا ٹورنامنٹ پاکستان میں ہونا چاہیے۔ جب کھیلنے کا فیصلہ ہوا تو فرمایا ایسا کرنا پاگل پن ہے۔ کئی غیرملکی کھلاڑی عمران کا حوالہ دے کر آنے سے انکار کردیتے ہیں۔ بعد میں پاک فوج سیکیورٹی کے انتظامات سنبھالتی ہے تو اُمید بندھ جاتی ہے کہ خان صاحب کچھ نرم پڑجائیں گے۔ لیکن تب بھی ایسا نہیں ہوتا، بلکہ بیان آتا ہے کہ ایسی سیکورٹی میں تو عراق اور شام میں بھی میچ کروایا جاسکتا ہے۔

تمام تر خدشات کے باوجود فائنل لاہور میں ہوجاتا ہے۔ بہت سوں کو تب بھی خوش فہمی کہ حالات معمول پر آجائیں گے۔ مگر معاملہ سلجھنے کے بجائے مزید اُلجھتا ہے۔ عمران خان پاناما کیس پر کچھ صحافیوں کو بلاکر غیرملکی کھلاڑیوں سے متعلق ایسے جملے کہہ جاتے ہیں جو ایک نیا ہنگامہ کھڑا کردیتے ہیں۔ وہ پاکستان آنے والے غیرملکی کھلاڑیوں کے متعلق ’’پھٹیچر‘‘ اور ’’ریلو کٹے‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز ذاتی طور پر یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ’’آف دی ریکارڈ‘‘ گفتگو تھی جسے آن دی ریکارڈ لاکر صحافتی بددیانتی کا مظاہرہ کیا گیا، لیکن عمران خان اگلے ہی روز ایک انٹرویو میں اپنے جملوں کے حق میں مزید ’’دلائل‘‘ دے کر ثابت کردیتے ہیں یہ ’’آف دی ریکارڈ‘‘ گفتگو نہ تھی۔ عمران خان کی زبان سے ادا ہونے والے یہ ایسے جملے اور الفاظ ہیں جن پر خود ان کی پارٹی بھی دفاع نہیں کرسکی۔ کئی ایسے راہنما، جو ہر ایشو پر کھل کر دفاع کرتے ہیں، معذور نظر آتے ہیں۔ ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ ’’پشاور زلمی‘‘ کے کپتان ڈیرن سیمی نہ صرف ناراضی کا اظہار کرتے ہیں، بلکہ ٹیم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے منعقدہ اعزازی تقریب عمران خان کی معافی کے ساتھ مشروط کردیتی ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے۔ کسی بھی ملک میں کسی بڑی پارٹی کا سربراہ ہمارے کسی کھلاڑی کے لیے یہ الفاظ استعمال کرتا تو یقینا ہمارا ردِعمل بھی مختلف نہ ہوتا۔

معاملہ مگر یہاں بھی ختم نہیں ہوتا۔ اس سے اگلے روز ٹینشن کے نتائج ہمیں پارلیمنٹ ہائوس کے باہر دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی میاں جاوید لطیف اور مراد سعید کے دوران تلخ کلامی ہوئی۔ پارلیمنٹ کا اجلاس ختم ہوا تو پارلیمنٹ کے باہر ہی یہ دونوں ارکان گتھم گتھا ہوگئے۔ ایک بار پھر مکے چل گئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن میاں جاوید لطیف کی زبان سے ایسے افسوسناک الفاظ نکل جاتے ہیں جو جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ گو کہ وہ بعد میں اپنے الفاظ واپس لیتے ہیں۔ لیکن کمان سے نکلا تیر اور زبان سے نکلا لفظ واپس نہیں آتا۔ خصوصاً ان کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ بہت حساس نوعیت کے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں محض جھوٹا الزام ہی نہ صرف بہنوں اور بیٹیوں کی زندگی عذاب بنادیتا ہے۔ بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اس کے خوفناک نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ پھر پختون معاشرے میں تو اس قسم کے معمولی الزامات پر خاندان کے خاندان کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ نسل درنسل دشمنی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جنم لیتا ہے۔

میرا خیال ہے کہ وقت آچکا ہے کہ ہم خود اپنے لیے کچھ حدود مقرر کریں۔ ہم سب کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ ایک ہی خاندان میں مختلف افراد کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ایسے بے شمار گھر ہیں جہاں اکٹھے رہ کر بھی دو بھائی الگ الگ سیاسی پارٹی اور مختلف نظریاتی تشخص رکھتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ یہ سلسلہ چل نکلا۔ سیاست دانوں کی شروع کردہ لڑائیاں گھروں تک پہنچ گئیں تو پھر بھائی کے ہاتھ میں بھائی کا گریبان ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اس پر سر جوڑ کر سوچنا چاہیے۔ سیاست اپنی جگہ، مگر سیاست کی خاطر اپنا آشیانہ تباہ کرنا کوئی عقلمندی نہیں۔ امریکا میں اکثر سرویز ہیلری کلنٹن کے حق میں آتے ہیں، لیکن اقتدار کا تاج ڈونلڈ ٹرمپ کے سر رکھا جاتا ہے۔ ہیلری چاہتی تو اپنے حامیوں کے ذریعے ٹرمپ کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی تھیں، لیکن ’’عظیم تر امریکا‘‘ کے مفاد میں انہیں یہ سب نہ صرف قبول کرنا پڑتا ہے، بلکہ کسی قسم کی مشکلات پیدا ہونے کا سبب بھی نہیں بنتیں۔

ہمیں بھی ایک پُرامن سیاسی ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ اختلاف معاشرے کا حسن ہوتا ہے، لیکن اختلاف جب انتشار میں بدل جائے تب خوف کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ ہم پہلے ہی تقسیم درتقسیم ہیں۔ فرقے، قومیت اور لسانیت کے نام پر ایک دوسرے کے گلے کاٹ چکے ہیں۔ اب محض سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالنا نفرتوں کو مزید بڑھاوا دینے کے سوا کچھ نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی راہنما آج جس کی پگڑی اُچھال رہا ہے، کل اسی کے قدموں میں ڈھیر ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں تو یہ زیادہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہو۔ یاد رکھیں اچھائی اور برائی آپ پر لوٹ کر آتی ہے۔ آج اگر آپ دوسرے کے لیے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کریں گے تو کل مقابلے میں کم ظرفی نہیں دکھائی جائے گی۔ ہمارے سیاسی راہنمائوں کو اس شخص کی طرح ہرگز نہیں بننا چاہیے جو اپنے ہی قریب ترین رشتے کی تذلیل سے تسکین حاصل کرتا ہے۔ جس کا مقصد صرف اپنی ناک اونچی رکھنا ہو۔ یہ ملک ہمارا گھر اور اس گھر میں ایک دوسرے کی لاج رکھنا ہمارا فرض ہے۔

By | 2017-04-22T12:28:39+00:00 March 12th, 2017|Columns|

Comments