جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک، کچھ مشاہدات

2005ء کا سال تھا۔ ماہِ اکتوبر کے آخری دن۔ مجھے اپنی ڈاکومنٹری کے سلسلے میں افغانستان جانا تھا۔ جنگ زدہ افغانستان، جہاں موت سب سے ارزاں شے تھی۔ 25 سالوں سے جہاں کسی کو سکون کی رات اور چین کا دن نصیب نہیں ہوا تھا۔ ایک ایسا ملک، جہاں جانے سے پہلے وصیت لکھنا لازم ہوجاتا ہے۔ خصوصاً ایک خاتون کے لیے ایسی سرزمین پر قدم رکھنا کتنا مشکل ہوگا، جہاں موت ہر وقت تعاقب میں ہو۔ لیکن ہمت باندھ اور چل پڑی۔ ڈیورنڈ لائن کے اس پار کی دنیا، ہماری دنیا سے کس قدر مختلف تھی۔ یہ تجربہ اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ مکمل نقاب اور آنکھوں پر چشمہ لگانے کی ہدایات تھیں۔ کابل سے غزنی کے سفر میں کتنے اہم اور دلچسپ واقعات پیش آئے، ان کا ذکر کسی اور دن، مگر یہ سفر میرے لیے کسی مہم جوئی سے کم ہرگز نہ تھا۔ جو واقعات فلموں میں دیکھے جاتے ہیں، وہ یہاں خود پر بیتے۔

آج تقریباً 10 سال بعد میں اپنی ٹیم کے ساتھ مشہور زمانہ مدرسہ جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک میں موجود ہوں۔ نیو نیوز کے لیے مولانا سمیع الحق کے ساتھ خصوصی انٹرویو کرنے آئی ہوں۔ پورے راستے میرے ذہن میں ماضی کے واقعات گھوم رہے تھے۔ 10 سالوں میں بہت کچھ بدل گیا۔ اکوڑہ خٹک پہنچے تو احترام سے نظریں جھکائے مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے اپنے گھر پر ہمارے استقبال کے لیے موجود تھے۔ کچھ ہی دیر بعد مولانا اپنے صاحبزادوں کے جلو میں تشریف لائے۔ وہی سمیع الحق جنہیں مغرب ’’Father of Taliban‘‘ کہتا ہے۔ مولانا گرم جوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں اور پھر بتاتے ہیں کہ مدرسے میں پڑھانے جارہا ہوں۔ مجھے آدھا گھنٹہ دے دیں۔ اس کے بعد انٹرویو شروع کرتے ہیں۔‘‘ وہ روانہ ہوتے ہیں، مگر چند قدم اُٹھانے کے بعد واپس مڑتے ہیں اور کہتے ہیں: ’’کیا بہتر نہیں ہوگا کہ آپ کو بھی مدرسے کا دورہ کرایا جائے۔ میں جہاں پڑھاتا ہوں، وہ جگہ بھی دیکھ لیں گی۔ 14 سو طلبہ ایک ہی ہال میں دیکھنا آپ کے لیے منفرد تجربہ ہوگا۔‘‘

ایک خاتون اور مدرسے کے طلبہ کے درمیان، میں یہی سوچ رہی تھی کہ مولانا نے کہا آپ پریشان نہ ہوں، یہاں کئی انگریز خواتین بھی آئی ہیں اور مدرسے کا وزٹ کیا ہے۔ میں نے حامی بھرلی۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک مختلف شعبوں اور عمارات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ یہ سب میرے لیے دلچسپی کے ساتھ معلومات کا ذریعہ تھا۔ وہ فہرست بھی دکھائی گئی جس میں مدرسے سے فارغ ہونے والے طلبہ کے نام تھے۔ ’’ملا محمد عمر مجاہد‘‘ کا نام میں نہیں دیکھ سکی نہ ہی کسی سے پوچھ سکی، البتہ انہی میں سے ایک نام ’’فضل الرحمن ولد مفتی محمود‘‘ ضرور لکھا نظر آیا۔ جامعہ حقانیہ کے طالب علم اور اب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، جن کے ساتھ مولانا سمیع الحق کے تعلقات زیادہ اچھے نہیں رہے۔ انٹرویو کے دوران میں بھی اس کا اظہار ہوا۔ جب میں نے عمران خان سے متعلق سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمن انہیں ’’یہودی ایجنٹ‘‘ کہتے ہیں، آپ کیا سمجھتے ہیں تو کہنے لگے: ’’ہم تو کسی کو یہودی ایجنٹ نہیں سمجھتے۔ اگرچہ جو ایجنٹوں سے زیادہ کام کررہا ہے، فضل الرحمن ان کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں۔ آپ نے عمران خان کا نام لیا تو میں کہتا ہوں کہ کیا نواز شریف کا دامن نچوڑیں تو فرشتے وضو کرتے ہیں! ان (نواز شریف) کے ہوتے ہوئے مدارس، مساجد کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا۔ ہزاروں لوگوں کو غائب کردیا گیا۔ نام ونشان معلوم نہیں ہے۔ مگر وہ (مولانا فضل الرحمن) ان کی گود میں بیٹھے ہیں۔‘‘

مولانا سمیع الحق کے ساتھ انٹرویو شروع ہوا تو کئی تلخ سوال بھی ہوئے۔ مولانا نے مگر بڑے تحمل کے ساتھ جواب دئیے۔ میرا سوال تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتل اور آپ کے مدرسے کا تعلق سامنے آتا ہے۔ جواب تھا: محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی پڑھی لکھی، مدبر سیاست دان کو قتل کرنے یا اس میں ساتھ دینے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے بہت اچھے تعلقات رہے۔ وہ وقتاً فوقتاً فون کرتیں اور کہتیں کہ آپ کا دوست (آصف علی زرداری) آپ کو یاد کرتا ہے۔ میں نے سوال کیا: آپ اُسامہ بن لادن کو آج بھی ہیرو سمجھتے ہیں؟ بغیر کسی جھجک کے جواب تھا: ـ’’نہ صرف ہیرو بلکہ میں انہیں اس صدی کا سیدالشہداء سمجھتا ہوں۔ میرا سوال تھا: دہشت گردی کے واقعات میں مدارس کا کتنا کردار ہے؟ مولانا کا دعوے کے ساتھ کہنا تھا: میں چیلنج کرتا ہوں کہ دہشت گردی کا کوئی ایک واقعہ دکھایا جائے جس میں مدرسے کا کوئی طالب علم ملوث رہا ہو۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر رائے جاننا چاہی تو غیر متوقع طورپر ’’چونکہ، چنانچہ، اگر، مگر‘‘ کے بغیر مذمت کرگئے۔ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے ملنے والی امداد پر ان کا کہنا تھا کہ ایک روپے کی امداد نہیں ملی ہے۔ ایم پی اے نے ہمارے اسکول کے اپ گریڈیشن کے لیے رقم کا وعدہ ضرور کیا ہے۔

مولانا سمیع الحق کے ساتھ یہ انٹرویو اور جامعہ حقانیہ کا دورہ کئی حوالوں سے یادگار رہا۔ مولانا کے اہل خانہ سے ملاقات اور گھر پر بنا ہوا پُرتکلف کھانا بھی ہمیشہ یاد رہے گا۔ بہت سے سوالات تھے جن کے جوابات مولانا نے دئیے۔ کئی سوال ایسے تھے جن کے جواب طلب نہیں کرسکی۔ دوبارہ موقع ملا تو ایک سوال میں ضرور مولانا سے پوچھوں گی۔ پاکستان میں اس وقت جامعہ حقانیہ جیسے کئی اور چھوٹے بڑے لاکھوں مدارس ہیں، لیکن ایسا کیوں ہے کہ یہ مدارس اور ان سے نکلنے والے علماء معاشرے میں اپنا ’’ایکٹیو رول‘‘ ادا نہیں کرپائے؟ مولانا سمیع الحق کے مسلک سے تعلق رکھنے والے صرف دیوبندی مدارس ہی کو دیکھا جائے تو اس وقت ملک بھر میں 19 ہزار 504 مدارس ہیں۔ ان مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد 23 لاکھ 6 ہزار 279 ہے۔ 7 لاکھ 75 ہزار 952 طالبات اس کے علاوہ ہیں۔ یعنی دونوں ملاکر 31 لاکھ کے قریب تعداد بنتی ہے۔ جبکہ ایک لاکھ 14 ہزار 447 اساتذہ ان مدارس میں پڑھارہے ہیں۔ یہ اعدادوشمار صرف ایک بورڈ کے ہیں۔ جبکہ چار بورڈز اس کے علاوہ ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ یہ تعداد کہاں تک پہنچے گی۔

مگر اتنی بڑی تعداد کے باوجود ہمیں معاشرے میں کوئی انقلابی اور مثبت تبدیلی نظر نہیں آتی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری مساجد اور ہمارے مدارس میں مسلک اور فرقے کی بات تو کی جاتی ہے، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ معاشرتی رویوں کو کیسے بہتر بنایا جاتا ہے۔ ایک اچھا شہری کیسے بنا جاتا ہے؟ کسی کے حقوق غصب کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ جھوٹ اور دھوکا دہی سے کیسے بچا جاتا ہے؟ خواتین کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے والوں کو اسلام کس نظر سے دیکھتا ہے؟ ہمارے ہاں کتنے لوگ ہوں گے جو خواتین کو وراثت میں ان کا حق دیتے ہیں۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ان ایشوز کو ہمارے ہاں دینی اور مذہبی طبقے میں بہت کم اہمیت حاصل رہی ہے۔ آج اگر لوگوں کا یہ تاثر بن چکا ہے کہ اسلام آئے گا تو چوکوں اور چوراہوں پر لاشیں لٹک رہی ہوں گی۔ ہر گلی میں کوڑے مارے جارہے ہوں گے۔ خواتین کو زبردستی شٹل کاک برقع پہنائے جارہے ہوں گے اور لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کو تالے لگ جائیں گے تو ایسا کہنے والوں کا قصور نہیں کہ بدقسمتی سے وہ ایک طویل عرصے سے یہی کچھ سنتے اور دیکھتے آرہے ہیں۔ قصوروار بہت حد تک اتنی بڑی تعداد کی ہے جو معاشرے کے اندر ذہنوں میں اُٹھنے والے یہ سوالات رفو نہیں کرسکی۔

قائداعظم اس ملک کو ’’اسلام کی تجربہ گاہ‘‘ کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی پرچم کشائی کی تقریب ہوئی تو قائداعظم نے مدرسے کے پڑھے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ جھنڈا لہرائیں۔ مدارس کے یہ لاکھوں علماء قائداعظمؒ اور مولانا شبیر احمد عثمانی کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکتے تھے۔ مگر بدقسمتی سے اتنی بڑی تعداد کے باوجود ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ اب بھی موقع ہے کہ ظلم، جبر اور دہشت کے مقابلے میں ہمارا مذہبی طبقہ اور مدارس سے نکلنے والے علماء سامنے آئیں۔ جمہوری طریقے سے اپنا رول ادا کریں۔ اسلام کا چہرہ مسخ کرنے والوں سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کریں اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنی کوششیں شروع کریں جہاں امن کا بول بالا ہو۔ جہاں جاتے وقت کوئی خوف اور دہشت سے لرزتا نہ ہو۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں جاتے ہوئے کسی کو جان جانے کا خوف ہو، نہ ہی لٹنے کا ڈر ہو۔

By | 2017-04-22T12:28:39+00:00 March 5th, 2017|Columns|

Comments