پاناما کیس۔۔۔ شکایت ہم سے نہیں، خود سے کرو

’’غالب‘‘ اپنے زمانے کا مشہور ڈرامہ تھا۔ ایک عرصے تک اس کا چرچا رہا۔ نصیر الدین شاہ کی اداکاری نے اسے چار چاند لگادئیے تھے۔ آپ میں سے بہت سوں کو یہ ڈرامہ یاد ہوگا۔ اس کا ایک سین آج یاد آرہا ہے۔ غالب صبح سویرے اپنے گھر کے سامنے ٹہل رہے ہیں۔ ایک شخص دونوں ہاتھوں میں کبوتر پکڑے وارد ہوتا ہے اور ’’السلام علیکم اسد مرزا‘‘ کہتے ہوئے رُکتا ہے۔ غالب سلام کا جواب دیتے ہیں اور گفتگو کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ انگریز کے آنے اور حالات کی خرابی کا ذکر ہوتا ہے۔ کبوترباز غالب پر طنز کرتا ہے کہ بادشاہ نہیں تو کیا ہوا، آپ کا وظیفہ تو انگریز نے بحال کردیا ہے۔ غالب کبوتر باز کا طنز سمجھ جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ گویا انہیں کسی نے نشتر چبھودیا ہو۔ غالب طنز کے جواب میں کہتے ہیں: ’’دیکھو میاں! شکایت ہم سے نہیں، خود سے کرو۔ قومیں بادشاہوں سے نہیں، عوام سے بنتی ہیں۔ اور آپ اگر آج بھی کبوتر نہ اُڑارہے ہوتے تو یہ قوم کچھ اور ہوتی! یہ ملک کچھ اور ہوتا! جائو اور کبوتر اُڑائو۔‘‘

پاناما کا ہنگاما کسی حد تک تھم گیا۔ 126 دن کے اعصاب شکن مراحل ختم ہوگئے۔ اس دوران کا کچھ ذکر ہو تو تقریباً 94 گھنٹے تک معزز جج حضرات دلائل سنتے رہے۔ 300 مختلف کیسوں کے حوالے سامنے لائے گئے۔ وزیراعظم کے وکیل کی کارکردگی سب سے منفرد رہی۔ انہوں نے 17 گھنٹے تک دلائل دئیے۔ تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کے 16 گھنٹے تک دلائل جاری رہے۔ حسن، حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجا نے 14 گھنٹے تک دلائل دئیے۔ مریم نواز، کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد 9 جبکہ جماعت اسلامی کے وکیل نے 6 گھنٹے تک دلائل دئیے۔ نئے بینچ کی 26 سماعتیں ہوئیں اور اب فریقین کی سماعتیں کوئی بڑا فیصلہ سننے کی منتظر ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور شیخ رشید احمد ہر حال میں وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی چاہتے ہیں، جبکہ وزیراعظم اور ان کے بچے کسی بھی صورت اس آزمائش سے سرخرو ہوکر نکلنے کے آرزومند۔ دونوں بلیک اینڈ وائٹ میں فیصلے کے خواہش مند۔ لیکن اب تک جو کچھ سامنے آیا ہے، اس سے کچھ اندازہ نہیں ہوتا کہ کیا فیصلہ آسکتا ہے۔ چوہدری اعتزاز احسن جیسے سینئر ماہر قانون دان بھی ایک طرف کہتے ہیں کہ نوازشریف کا بچ نکلنا بہت مشکل ہے، جبکہ دوسری طرف ان کا خیال ہے کہ یہ سسٹم کے لاڈلے ہیں، کچھ نہیں کہا جائے گا۔ کس کی اُمید برآتی ہے اور کون ناکام ٹھہرتا ہے، اس کے لیے شاید اب زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

پاناما کیس پر بہت کچھ لکھا جاچکا اور لکھا جاتا رہے گا، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اس کیس نے ہم پر ہماری کئی کمزوریاں آشکار کردی ہیں۔ خصوصاً آج ایک ایسی کمزوری کا ذکر کرنا مقصد ہے جس کے ہوتے ہوئے ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ وہ ہے بااختیار اور خودمختار اداروں کی بے بسی اور بے حسی۔ اپنے ہاں چند بااختیار اداروں کی فہرست بنائی جائے تو ان میں نیب اور ایف بی آر کا نام سرفہرست ہوگا۔ خصوصاً نیب کے اختیارات لامحدود ہیں۔ اس کا اندازہ اس سے بھی لگالیں کہ چیف جسٹس نے اس کیس کے دوران چیئرمین نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چار سو روپے کے ملزم کی ضمانت ہوجائے تو نیب عدالت کا دروازہ توڑ دیتا ہے۔‘‘ لیکن ہم نے اس دوران میں دیکھا کہ نیب جیسا بااختیار ادارہ کس قدر بے بس دکھائی دے رہا تھا۔ پاناما پیپرز کے منظرعام پر آنے کو سال ہونے والا ہے۔ لیکن اس کی طرف سے کوئی پیشرفت دکھائی نہیں دی۔ اس ادارے کا پندرہ سالہ بجٹ 12896 ملین روپے ہے۔ اس کے چیئرمین کی طاقت کا اندازہ اس سے بھی لگالیں کہ تقرر کرنے والے بھی اسے نہیں ہٹاسکتے۔ لیکن اس بجٹ اور ان اختیارات کے ساتھ اس قدر بے بسی بہت سے سوالات جنم لے رہی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اتنا بااختیار ادارہ حکومت کے خلاف کچھ نہ کرسکے تو باقی ادارے کہاں کھڑے ہوں گے؟ اس کیس میں ایف بی آر کا ذکر ہو تو اس کی کارکردگی اس سے بھی زیادہ مایوس کن رہی۔

یہ ادارے اپنا کام بہتر طریقے سے کرتے تو ممکن ہے یہ مسئلہ جلدی اور بہتر طریقے سے حل ہوتا۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ ان اداروں کی طرف سے کسی قسم کی سنجیدگی ظاہر نہیں کی گئی۔ انہیں عدالت نے طلب کیا تو مجھ سمیت کئی لوگ تب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ ہوسکتا ہے اب یہ ادارے عدالت کے احترام میں ہی کسی حد تک تعاون پر تیار ہوجائیں۔ لیکن پوری قوم حیرت زدہ رہ گئی جب ان بااختیار اداروں کے سربراہان نے کسی بھی صورت عملی طور پر عدالت کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردیا۔ چیئرمین نیب کے واضح انکار پر تو عدالت کو کہنا پڑا کہ چیئرمین نیب صاحب! اب آپ نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ جبکہ چیئرمین ایف بی آر کی سنجیدگی کا اندازہ اس سے لگالیں کہ عدالت سے نکلتے ہوئے کہتے سنے گئے: ’’شکر ہے بچت ہوگئی، ورنہ میں تو بہت ڈرا ہوا تھا۔‘‘

یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود اگلے روز اٹارنی جنرل اشتر اوصاف، جج صاحبان سے گلہ کرتے پائے جاتے ہیں کہ آپ اداروں سے متعلق ریمارکس دیتے ہیں اور ان سے ہمارے لیے مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم باہر ممالک جاتے ہیں تو ہمیں اپنے اداروں سے متعلق آپ کے حوالے سننے کو ملتے ہیں۔ کوئی اٹارنی جنرل صاحب سے سوال کرتا کہ اگر ہمارے اداروں کو اپنی ساکھ کا اتنا ہی خیال ہے تو وہ اپنی کارکردگی کیوں بہتر نہیں بناتے؟ اسرائیل میں نیتن یاہو سے تحفے لینے کے کیس پر کئی بار تفتیش ہوتی ہے اور یہ تفتیش ان سے پولیس کرتی ہے۔ کیا پاکستان میں اس کا تصور کیا جاسکتا ہے؟ یہاں پولیس کسی رکن صوبائی اسمبلی سے پوچھ کر دکھائے، قیامت کھڑی ہوجاتی ہے۔ یہ تو ناممکنات میں سے ہے کہ وزیراعظم سے پوچھ گچھ ہو۔

ہمارے ہاں اکثر ادارے ـ’’سیاست زدہ‘‘ ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس میں قصور سیاست دانوں کا ہے تو دوسری طرف ان اعلیٰ اداروں کے سربراہان بھی اپنی کم مائیگی کا سامان پیدا کرنے میں برابر کے شریک نظر آتے ہیں۔ جو شخص اپنے آپ اور اپنے ادارے کو اہمیت نہ دے، اسے معاشرہ اور کوئی اور کیوں اہمیت دے گا۔ پاناما کیس نے یہ حقیقت مزید واضح کردی ہے کہ ہمارے ہاں ادارے خود ہی اپنی ساکھ برباد کرنے پر تُلے رہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ گلہ بھی کرتے پائے جاتے ہیں۔ موجودہ کیس کو ہی سامنے رکھ کر دیکھا جائے۔ ہمارے یہ طاقتور ادارے اعلیٰ عدلیہ کو مطعون کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیتے تو دنیا میں ہماری شرمندگی کا سامان ہوتا نہ ہی ملک وقوم کا اتنا وقت ضائع ہوتا۔ غالب نے درست کہا تھا: ’’شکایت ہم سے نہیں، خود سے کرو۔‘‘

By | 2017-04-22T12:28:39+00:00 February 26th, 2017|Columns|

Comments