خون کی ندیاں۔۔۔ سیاسی قیادت کہاں کھڑی ہے؟

ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے، مگر یہ تصویر مجھے کئی ہزار الفاظ پر بھاری لگی۔ یہ تصویر نہیں، ہمارے عہد کا نوحہ ہے۔ اس بچی کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں تو حزن وملال کے سوا کچھ نظر نہ آئے۔ حسرت ایسی جیسے کسی مصور کی طویل عرصے کی محنت کا نتیجہ ہو۔ اس تصویر میں ایک پیار کرنے والے بابا کے بچھڑجانے کا غم ہے۔ تصور تو کریں بیٹیاں اپنے بابا کے ساتھ کس قدر ٹوٹ کر محبت کرتی ہیں۔ ننھی بچیوں کی زندگی کا کل سرمایہ تو ’’بابا‘‘ ہی ہوتے ہیں اور یہاں معصوم بچی کا سرمایہ لٹ چکا تھا۔ اس کی زندگی میں ایسا خلا پیدا ہوا تھا جو دنیا کی تمام نعمتیں اور آسائشیں بھی پُر نہیں کرسکیں گی۔ تصویر میں نظر آنے والی یہ بچی جنرل قمر جاوید باجوہ کے پہلو میں بیٹھی ہے۔ اس کے بابا کیپٹن (ر) احمد مبین… جو اپنی بیٹی کی ذرا سی تکلیف پر بے چین ہوجاتے… اسے پچھلے ہی روز اتنا بڑا غم دے کر چلے گئے تھے۔

میں اس تصویر کو سنبھالے بیٹھی تھی۔ مگر اس کے بعد تو تصویروں پر تصویریں آنا شروع ہوئیں۔ خون میں لتھڑی ہوئی سرزمین پاکستان کے فرزندوں اور خواتین کی تصویریں۔ سہون کے مزار پر خون میں لت پت شیرخوار کا فیڈر بھلائے نہیں بھولتا۔ چار دِنوں میں ایک سو سے زائد انسانوں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ ساری زندگی امن کا درس دینے والے سید عثمان مروندی معروف لعل شہباز قلندر کے مزار کو ہی انسانوں کے خون سے رنگین کردیا گیا۔ رہی سہی کسر ’’الرٹ پر الرٹ‘‘ نے پوری کردی۔ شہر شہر، گلی گلی خوف کی ایسی چادر تنی کہ سانس لینا مشکل ہوگیا۔ دو سال کسی حد تک چین اور سکون کی زندگی گزارنے والے پاکستانی تصور نہیں کرسکتے تھے کہ دہشت گرد اس ٹوٹی کمر کے ساتھ ایک بار پھر ملک میں اس طرح قتل وغارت کا بازار گرم کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

المیہ یہ ہے کہ خون کی یہ ندیاں ’’مذہب‘‘ کے نام پر بہائی جارہی ہیں۔ ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ ہم بھی اب تک اصل صورتِ حال کو سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ انڈیا اور افغانستان کی بات بھی کرتے ہیں، لیکن اس جنگ میں اہم ترین فیکٹر مذہب تھا جسے ہر ایک نے نظرانداز کردیا۔ کوئی مانے یا نہ مانے، لیکن خواہشات اور جانبداری کو ایک طرف رکھ کر دیکھا جائے تو خودکش بمبار مال ودولت کی لالچ میں نکلتا ہے نہ ہی اسے نشہ پلاکر میدان میں اُتارا جاتا ہے۔ وہ زندگی سے تنگ ہوتا ہے نہ ہی اس پر کوئی زبردستی کی جاتی ہے۔ وہ پورے ہوش وحواس کے ساتھ اپنے ٹھکانے سے نکلتا ہے اور درجنوں کو ٹھکانے لگادیتا ہے۔ اس پورے عرصے میں اس کا ذہن ’’حوروں‘‘ کے دل رُبا خیالات اور ’’جنت‘‘ کے خوشنما باغات کی سیر کررہا ہوتا ہے۔ ایسے بیانیے (narrative) کا مقابلہ جوابی بیانیہ (counter narrative) سے کیا جاتا ہے، لیکن 15 سالوں میں کوئی ایک مثال ایسی نہیں ملتی کہ جس مذہب کو دہشت گرد اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، اسی مذہب کی حقیقی تعلیمات سامنے رکھ کر ان کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اگر کوئی شخص کسی مجمع میں جاکر پھٹتا ہے اور اسے عین اسلام کی خدمت اور جنت کے حصول کا ذریعہ سمجھتا ہے تو ایسا کرنے میں وہ حق بجانب ہوتا ہے۔

اصل قصور وار تو وہ ہیں، سب کچھ جان کر جن کے منہ پر تالے پڑے ہوتے ہیں، یا پھر جن کے پاس اختیار ہونے کے باوجود وہ اس طرف دھیان نہیں دیتے۔ نیشنل ایکشن پلان کا مقصد صرف قاتلوں اور دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے سے ہرگز پورا نہیں ہوتا، نظریات کے مقابلے میں نظرئیے اور اسلام کے حقیقی چہرے کو سامنے لانا اور پروان چڑھانا ضروری تھا۔ لیکن بدقسمتی سے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ نیشنل ایکشن پلان کی اصل کامیابی تب ہوتی جب نظریات کی بنیاد پر ایک زبردست فورس بنائی جاتی۔ جو اسلام کے نام پر قتل وغارت کرنے والوں کو دلیل کی بنیاد پر جواب دیتی۔ مگر آج بھی آپ یوٹیوب پر جائیں، ایسی سیکڑوں تقریریں مل جائیں گی جن میں ایک دوسرے کو کافر، مشرک کے القابات دے کر قتل کرنے اور خوشخبریاں دینے کی باتیں ہوتی ہیں۔ لیکن کسی نے ان تقاریر کی طرف توجہ دی نہ ہی اس لٹریچر پر نظر ڈالنا گوارا کی جو قتل وغارت پر اُکسانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اے پی ایس واقعے کے بعد تیسرا سال ہے، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنے اور کروانے والوں نے غلطی سے بھی اس طرف توجہ نہیں دی۔

پچھلے دو ڈھائی سالوں کا ذکر ہو تو عسکری میدان میں ہمیں کئی کامیابیاں نظر آتی ہیں۔ دہشت گردوں کے کئی اہم ٹھکانے ان سے چھن گئے۔ انہیں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ اس دوران میں 76 ہزار آپریشن ہوئے۔ 26 لاکھ سے زائد افراد سے پوچھ گچھ ہوئی اور یہ کام فوج کے زیرسایہ ہی ہوا۔ سیاسی جماعتیں اس کا کریڈٹ لینا چاہیں تو ان کی مرضی، مگر حقیقت یہی ہے کہ نجی محفلوں میں وہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ دو سال امن وسکون سے گزرے ہیں تو اس کے پیچھے ان کی ذہانت اور سیاسی سوچ ہرگز کارفرما نہیں تھی۔ بیانیے کی بات کی جائے تو یہ کام فوج کا ہرگز نہیں تھا۔ یہ نیشنل ایکشن پلان میں سول حکومت کی ذمہ داری تھی۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ کوئی ایک بھی موقع ہمیں ایسا نظر نہیں آیا کہ جس کو سامنے رکھ کر یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ سیاسی قوتوں نے بھی اپنی کچھ ذمہ داریاں ادا کی ہوں۔ وہ ایک طرف ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور عوام کے سامنے نیچا دکھانے میں مصروف رہیں تو دوسری جانب ڈان لیکس جیسی شرمناک حرکتوں سے خود کو ایکسپوز کرتی رہیں۔ کسی کو اپنی مدت پوری کرنے کا غم کھائے جارہا تھا تو کسی کو شیروانی پہن کر وزیراعظم ہائوس میں داخلے کی خواہش ستارہی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) مقتدر جماعت ہے، مگر اس خوفناک جنگ میں اس کی سنجیدگی کا اندازہ اس سے لگالیں کہ نیکٹا جیسے اہم ترین ادارے کو ذرا بھی اہمیت نہیں دی۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی رپورٹ پڑھیں تو آنکھیں کھل جائیں۔ تین سالوں میں نیکٹا کا صرف ایک اجلاس ہوا۔ 1.8 بلین روپے کی ضرورت تھی، مگر صرف 109 ملین تھمادیے گئے۔ 700 اسامیاں پُر کرنی تھیں، صرف 130 لوگ کام کرتے رہے۔ گریڈ 17 کے 87 افسران کاکام 33 افسران کے ذمے ہے۔ اسی طرح فوجی عدالتوں کو ختم ہوئے ڈیڑھ ماہ ہونے کو ہے۔ اب تک اس پر پانچ اجلاس ہوچکے ہیں اور ان اجلاسوں کی کارروائی جان کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ حکومت اس میں کتنی سنجیدہ ہے۔ اس ایشو پر اپوزیشن حکومت کی مدد کو تیار ہے۔ پیپلز پارٹی تمام تر اختلافات کے باوجود پہلے بھی اسے قبول کرچکی تھی اور اب بھی وہ یہ کڑوا گھونٹ پینے کو تیار ہوسکتی ہے۔ پی ٹی آئی کی بات کی جائے تو شاہ محمود قریشی نے ہمارے پروگرام میں اس کا اقرار کیا کہ حکومت فوجی عدالتوں کے ایشو پر خود سنجیدہ نہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کی تازہ لہر میں بیرونی ہاتھ کی بات کی جائے تو انڈیا کھل کر سامنے آیا ہے۔ نریندر مودی نے دھمکی دی تھی کہ ہم پاکستان کو دنیا میں تنہا کردیں گے۔ ’’اڑی حملے‘‘ پر واضح کہا تھا کہ ہم اس کا بدلہ لیں گے۔ سی پیک کو اس نے اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ بنارکھا ہے۔ پی ایس ایل کے لاہور میں فائنل سے دنیا بھر میں جو مثبت پیغام جانا تھا، وہ اس کے لیے ہرگز قابل قبول نہیں تھا، سو اس کی خوش قسمتی کہ ایک طرف اسے ہمارے پڑوس میں افغانستان مل گیا اور دوسرا، مذہب کے نام پر فضل اللہ کی قیادت میں قتل وغارت کرنے والا ایک انتہائی سستا اور خونخوار گروہ اسے میسر آیا۔ سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو کوئی مضبوط وکیل نہیں۔ وزیر خارجہ کا قلمدان اب تک میاں نواز شریف کے پاس ہے۔ شاید انہیں اپنے علاوہ کوئی شخص نظر نہیں آتا جو اس منصب کا حق ادا کرکے پاکستان کا مقدمہ اچھے انداز میں لڑتا اور دنیا پر واضح کرتا کہ بھارت افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی کروارہا ہے۔اندرونی محاذ پر ہمارے جو مسائل ہیں، ان کا ذکر پہلے ہی ہوچکا۔

لیکن میرا خیال ہے کہ اب وقت آچکا ہے کہ حکومت اپنی کمزوریوں پر نظر ڈالے۔ نیشنل ایکشن پلان میں اپنے کردار پر نظرثانی کرے۔ سیاسی جماعتیں بھی کھل کر سامنے آئیں۔ جاننا چاہیے کہ یہ کسی ادارے یا سیاسی جماعت کی جنگ نہیں، یہ پوری قوم کی جنگ بن چکی ہے۔ مسجدیں، مزارات، امام بارگاہیں، پارک اور ہسپتال ہم سب کے مشترک ہیں۔ اگر خدانخواستہ ہم کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہ کرسکیں تو ایک طرف ہم ایک تنگ اور تاریک گلی میں رہ جائیں گے تو دوسری جانب کیپٹن (ر) احمد مبین کی معصوم بیٹی اور ان جیسے سیکڑوں معصوم بچے ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔

By | 2017-04-22T12:28:39+00:00 February 19th, 2017|Columns|

Comments