اگلے انتخابات اور کراچی کا مستقبل

خاتون کا شوہر ایکسیڈنٹ میں مارا گیا۔ 8 اور 10 سال کے دو بچے یتیم ہوگئے۔ سخت ترین آزمائش آئی، لیکن خاتون نے ہمت نہ ہاری اور ایک فیکٹری میں ملازمت شروع کردی۔ اس اُمید پر کہ بچوں کو کچھ تعلیم دلواکر مشکل دن ختم ہوجائیں گے۔ دس سال کا عرصہ گزرا، کیسے گزرا ہوگا؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ بچوں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو ماں کے بال مکمل چاندی، مگر جوان اولاد کو دیکھ کر آنکھوں میں چمک تھی۔ پھر ایک دن ایسا آیا کہ آنکھیں پتھراگئیں۔ ساری اُمیدیں اور آرزوئیں خاک میں مل گئیں۔ 18 اور 20 سال کے دونوں بچے موٹرسائیکل پر نکلے اور ’’نامعلوم‘‘ افراد کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ جوان بچوں کی لاشیں گھر آئیں تو خاتون اپنے ہوش وحواس کھوبیٹھی تھیں۔

یہ پاکستان کے شہر کراچی کا واقعہ ہے۔ ایسی ہزاروں مائیں ہیں جن کی جوان اولادوں کو دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اُتارا گیا، اور وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھنے پر مجبور رہیں۔ کیا کوئی تصور کرسکتا ہے کہ ماں اپنی اولاد کو کن سختیوں اور مشکلات سے گزرکر جوان کرتی ہے؟ ماں کے علاوہ شاید ہی کوئی اسے محسوس کرسکے۔ لیکن کراچی میں آج بھی ایسی ہزاروں مائیں ہیں جو اپنے جوان بچوں کے غم میں آنسو بہارہی ہیں۔ تقریباً ساڑھے چار سال قبل اسی کراچی شہر میں ایک ایسی ماں دیکھی گئی جس کے سامنے اس کے چار جوان بیٹوں کی لاشیں پڑی تھیں اور وہ سوائے آنسو بہانے کے کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ کیا اس ماں کے غم اور دُکھ درد کا مداوا کوئی کرسکتا ہے؟ کراچی گزشتہ 30، 35 سالوں سے دُکھی ہے۔ زخمی ہے۔ یہاں کی ہر دیوار گریہ کرتی ہے۔ ایسی ایسی کہانیاں کہ لکھی جائیں تو کئی ہزار صفحات بن جائیں۔

آج کل کراچی ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ خصوصاً سیاست دان مسلسل اس شہر کا طواف کررہے ہیں۔ سب سے پہلے وزیراعظم میاں نواز شریف کراچی تشریف لے گئے۔ انہوں نے حیدر آباد سے کراچی موٹروے کا افتتاح کیا۔ اس پر اپوزیشن خصوصاً پاکستان تحریک انصاف نے اعتراض بھی کیا کہ ادھورے منصوبے کا افتتاح کیا اور سپرہائی وے کو موٹروے کہا جارہا ہے۔ چند ہی دن بعد عمران خان بھی کراچی پہنچ گئے۔ انہوں نے مشہور دینی مدرسوں اور مراکز کا دورہ بھی کیا۔ واپسی سے پہلے انہوں نے پریس کانفرنس کی۔ جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ کراچی کو ہم نے نظرانداز کیا۔ پہلے دھرنوں میں مصروف رہے اور بعد میں پاناما نے وقت لیا۔ ایم کیو ایم کے بانی رکن سلیم شہزاد بھی کراچی پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ سابق گورنر سندھ عشرت العباد خان بھی خبروں میں ہیں۔ پرویز مشرف کے بارے میں بھی خبریں آرہی ہیں کہ وہ ایم کیو ایم کے تینوں دھڑوں کو یکجا کرنے میں رول ادا کرسکتے ہیں۔

انہی دنوں آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے بھی بہت سے ایوانوں میں ہلچل مچادی۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی آپریشن کے پولیس افسران اور اہلکاروں کو چن چن کر مارا گیا اور قاتل اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے رہے۔ اتنے اہم ترین فرد کی گواہی نے کئی سوالات کھڑے کردئیے۔ 1992ء سے 1996ء تک کراچی میں پولیس کے 248 افسران اور اہلکار شہید ہوئے۔ یہ وہ افسران تھے جنہوں نے کراچی میں امن لانے کے لیے فرائض انجام دئیے، مگر آپریشن کے بعد ان لوگوں کو بے یارومددگار چھوڑا گیا اور اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے افراد انہیں چن چن کر قتل کرواتے رہے۔ کراچی میں پولیس سے کئی شکایات ہوسکتی ہیں۔ یقینا اس محکمے میں سیاسی اثرورسوخ بھی ہوگا۔ وہ جرائم کے خاتمے کے لیے اپنا کردار بھی ادا نہیں کرپارہے ہوں گے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے سابق افسران اور اہلکاروں کا یہ انجام دیکھ کر کوئی پولیس افسر دوبارہ ایسا رسک لینے کو تیار ہوگا؟ ہرگز نہیں!!!

بدقسمتی یہ ہے کہ کراچی پر بہت سے لوگ اپنا حق جتاتے ہیں۔ وہ اس کے حقوق کی بات بھی بھی کرتے ہیں، مگر اس شہر کو تباہی کے سوا کسی نے کیا دیا۔ بہت معذرت کے ساتھ، لیکن آج سابق گورنر سندھ عشرت العباد خاں دوبارہ سرگرمِ عمل ہیں۔ ان سے کوئی معلوم کرے کہ آپ پاکستان کی تاریخ کے طویل ترین عرصے تک گورنر رہے۔ اُردو بولنے والوں کی اکثریت کے نمایندے تھے۔ مگر کوئی ایک ایسا کارنامہ بتاسکتے ہیں جس پر آپ فخر کرسکیں؟ 14 سال کا عرصہ معمولی نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے وہ یہ عذر پیش کریں کہ گورنر کے پاس محدود اختیارات ہوتے ہیں۔ مگر کیا اسی سندھ میں حکیم محمد سعید کے نام سے ایک گورنر نہیں گزرے جنہوں نے مختصر ترین مدت میں 4 یونیورسٹیوں کو چارٹر کیا۔ تعلیم کا ہی ذکر کیا جائے تو جو حالت زار جناب عشرت العباد خان کے دور میں تعلیم کی ہوئی، اس کا اندازہ اس سے لگاسکتے ہیں کہ کراچی میٹرک اور انٹر بورڈ میں چند ہزار روپے پر ڈگریاں ملتی رہیں۔ حیدر آباد یونیورسٹی کی بات کی جائے تو وعدوں کے باوجود نہیں بناسکے۔ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرریاں الگ کہانی ہے۔

کراچی میں عشرت العباد خان کی سابق جماعت ایم کیو ایم کا ذکر کیا جائے تو اسے یہ شہر بنانے اور سنوارنے کے کتنے مواقع ملے۔ وہ چاہتی تو اس شہر کا چہرہ تبدیل کرکے پورے ملک سے اپنے لیے دروازے کھلواسکتی تھی، لیکن افسوس! وہ بھی کچھ نہیں کرسکی۔ بلکہ ان کے دورِ اقتدار میں یہ شہر قتل وغارت اور دہشت گردی کا مرکز بنا رہا۔ یہ ’’روشنیوں کا شہر‘‘ تھا اور پورے ملک سے یہاں لوگ روشنیاں دیکھنے کی آرزو میں آتے تھے۔ یہاں سے پاکستان کی اہم ترین تحریکیں چلیں۔ اس کی پہچان لیاقت علی خان، حکیم محمد سعید، مولانا شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد جیسے لوگ تھے، لیکن ایم کیو ایم کے دورِ اقتدار میں اس کی پہچان جاوید لنگڑا، سلیم بھنگڑا اور شبیر کن ٹٹا بن گئے۔ بوری بند لاشیں، بھتہ، ٹارگٹ کلنگ، چائنا کٹنگ، ہرٹالوں کی عجیب وغریب اصطلاحات ہم نے بدقسمتی سے اسی کے طفیل سنیں۔ یہ تک سنا گیا کہ انسانی جسموں میں ڈرلوں سے سوراخ کیے جاتے رہے۔ وکلا کو زندہ جلانے کے واقعات تو آنکھوں سے دیکھے اور کانوں سے سنے گئے۔ ایک ایم پی اے کے قتل پر پانچ درجن سے زائد افراد کو گھاٹ اُتارنا معمول رہا۔ ممکن ہے ایم کیو ایم کے حوالے سے بہت سی باتوں میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا رہا ہو، لیکن مبالغے کے بغیر بھی دیکھا جائے تو ان 30 سالوں میں اس شہر نے چین کا دن اور سکون کی رات نہیں دیکھی۔

کراچی شہر میں جو کچھ ہوا اور جس نے کیا، نتیجہ بھی سب نے دیکھ لیا۔ رینجرز نے اپنا کردار ادا کرکے بدترین شہر کو ایک حد تک پرسکون بنادیا ہے۔ روشنیاں کافی حد تک بحال ہوگئی ہیں۔ اب گیند سیاسی جماعتوں ک کورٹ میں ہے۔ انہیں چاہیے کہ اپنا رول ادا کریں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ اپنی صفوں سے جرائم پیشہ افراد کو نکالے۔ اس کے راہنمائوں سے زیادہ اس شہر کے مسائل کوئی نہیں جانتا۔ اگر یہ اپنی پرانی غلطیوں سے تائب ہوکر ایک نئے عزم اور جذبے کے ساتھ میدان میں نکلیں تو ممکن ہے غلطیوں کا ازالہ ہوسکے۔ پاکستان تحریک انصاف سے کراچی کے عوام کی توقعات وابستہ تھیں۔ 2013ء میں اسے اچھا خاصا ووٹ پڑا، لیکن اس انتخاب کے بعد پی ٹی آئی اس شہر کو ایسا بھول گئی جیسے کبھی یہ اس ملک کا حصہ ہی نہ رہا ہو۔ اگرچہ اس کا احساس عمران خان کو ہوگیا، مگر بہت دیر بعد۔ اسی طرح اس شہر میں جماعت اسلامی بھی اپنا اچھا اثرورسوخ رکھتی ہے اور پیپلز پارٹی کا بھی ووٹ بینک ہے۔ اگر شہر میں اہم رول ادا کرنے والی یہ تمام جماعتیں اتفاق کے ساتھ شہر کی بہتری کے لیے کوئی ’’میثاق‘‘ کرلیں تو کیا ہی اچھا ہو۔ پھر اس شہر کے اسٹیک ہولڈرز کو کسی ماں کی بددُعا لگے گی نہ ہی وہ اپنے جوان بیٹوں کے لاشے دیکھے گی۔

By | 2017-04-22T12:28:39+00:00 February 12th, 2017|Columns|

Comments