پی پی نے ن لیگ سے انتقام کیوں نہیں لیا؟

چوہدری منظور احمد پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات ہیں۔ وہ ان راہنمائوں میں سے ہیں۔ جو خوبصورت انداز میں اپنی بات پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چند روز قبل پاناما کیس سے متعلق گفتگو ہورہی تھی، تو ان کا کہنا تھا کہ جو الزامات مسلم لیگ ن کی حکومت پر لگے، یہ ہماری حکومت اور وزرا پر لگتے تو اب تک حکومت کئی بار ختم ہوچکی ہوتی۔ ن لیگ کو تمام اداروں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے، جبکہ معمولی الزامات پر ہمیں غدار ٹھہرایا جاتا ہے۔ انہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کا بھی ذکر کیا۔ میاں نواز شریف کے کالے کوٹ کو بھی وہ نہیں بھولے، جسے پہن کر میاں صاحب میمو اسکینڈل کے خلاف سپریم کورٹ گئے اور انہیں ہر حال میں ’’غدار‘‘ ٹھہرانے کے لیے سینہ سپر ہوگئے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے مسلسل یہ شکوہ کیا جارہا ہے کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی، مگر کسی نے ہمارے حق میں آواز نہیں اُٹھائی۔ اس سے پہلے سینیٹر روبینہ خالد نے بھی یہی گلہ کیا کہ جب پاکستان میں دہشت گردی عروج پر تھی تو ن لیگ ان دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھ رہی تھی اور ہمارے بار بار کے مطالبات کے باوجود کبھی ہمارا ساتھ نہیں دیا گیا۔ جب ن لیگ نے دہشت گردی کے خلاف قدم اُٹھانے کی بات کی تو سب سے پہلے ہم نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور آج تک ملک وقوم کے مفاد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کیا پیپلز پارٹی کے راہنمائوں کا یہ گلہ درست ہے؟ کیا واقعی ن لیگ نے ان کے ساتھ زیادتی کی اور اسی لیے اپنے دور میں اسے ’’مکافاتِ عملـ‘‘ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے؟ اس بارے میں کچھ یقینی نہیں کہا جاسکتا، لیکن ان دونوں ادوار میں کون کہاں کھڑا رہا، اس کی تفصیلات دلچسپی سے خالی نہیں۔

اس میں شک نہیں کہ ان چار سالوں میں کئی مواقع ایسے آئے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ن لیگ کے لیے مسائل کھڑی کرسکتی تھی۔ دو موقعے تو کم ازکم ایسے تھے کہ میاں نواز شریف اور ان کی ٹیم کو گھر بھیجنے کے لیے پیپلز پارٹی کی معمولی محنت بھی کافی ہوتی۔ پہلا موقع، پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا، جس کے نتیجے میں ہر شام معلوم ہوتا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت ’’اب گئی کہ تب گئی‘‘۔ دوسرا گولڈن چانس، پاناما لیکس کیس ایشو۔ اگر پیپلز پارٹی اس موقع پر چاہتی اور فریق بن کر سینیٹر اعتزاز احسن جیسے سینئر اور ذہین فطین وکیل کو میدان میں اُتارتی تو اس بات کے بہت کم امکانات ہوتے کہ میاں نواز شریف کا کوئی وکیل ان کے مقابلے میں دفاع کرپاتا۔ مگر یہاں بھی پیپلز پارٹی نے فریق نہ بن کر ’’کمال شفقت‘‘ کا مظاہرہ کیا اور حکومت کے لیے مسائل میں اضافے کے سبب نہیں بنی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ن لیگ تقریباً ایسے ہی ایشوز پر اس کے لیے مشکلات کا سبب بنتی رہی۔ ایک طرف لانگ مارچ کو نظر میں رکھیے اور دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کا میمو گیٹ اسکینڈل میں سپریم کورٹ جانا ذہن میں لے آئیں۔ دہشت گردی کے خلاف پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی بات بھی دُہرائی جاتی ہے اور سید یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیجنے کے معاملے میں ن لیگ کی خوشیوں کی بھی بات کی جاتی ہے۔ آپ دیکھیں گے تو حیرت ہوگی کہ مسلم لیگ ن کو انہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن کا پیپلز پارٹی اپنے دورِ حکومت میں کرتی رہی ہے۔ میمو گیٹ اسکینڈل کو سامنے رکھیں تو ن لیگ کے لیے ’’ڈان لیکس‘‘ دردِ سر بنا اور اسے اہم وزیر کی قربانی دینا پڑگئی۔ ن لیگ کے مستقبل کی جانشین مریم نواز صاحبہ کی طرف بھی اُنگلیاں اُٹھیں۔

تاہم ن لیگ کی خوش قسمتی یہ رہی کہ پیپلز پارٹی نے ڈان لیکس کے معاملے پر بھی اسے ٹف ٹائم دیا نہ ہی اپنا بدلہ اُتارنے کی کوشش کی۔ حالانکہ میمو اسکینڈل پر جب میاں نواز شریف کالا کوٹ پہن کر عدالت جارہے تھے تو ان کے نمایندے کس طرح ان کی ترجمانی کررہے تھے، آپ احسن اقبال کی گفتگو سے اندازہ کرسکتے ہیں۔ اس وقت ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ ’’میمو گیٹ کے مندرجات کا مطالعہ کریں تو آپ کو یہ پتا چلے گا کہ یہ سنجیدہ نوعیت کے الزامات ہیں۔ اس میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو موردِ الزام ٹھہرایا جارہا ہے، پاکستان کا جو اہم قومی مفاد ہے، اس پر بات کی جارہی ہے۔ سیاسی معاونت کے لیے کسی غیرملک سے تعاون کی بات ہورہی ہے۔ یہ اتنی حساس باتیں ہیں کہ اگر انہیں نظرانداز کیا گیا تو اس کے بہت خطرناک مضمرات ہوسکتے ہیں۔ یہ پاکستان کے لیے نہ صرف سنجیدہ ہیں، بلکہ ہمارے اہم قومی مفاد کے حوالے سے بھی بہت اہم ہیں۔۔۔‘‘

’’ڈان لیکس‘‘ میں آنے والی معلومات بھی کم پریشان کردینے والی نہیں۔ یہ بھی ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف کسی سازش سے کم نہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے تو مناسب ہوگا کہ یہ خود ہی دنیا میں اپنے آپ کو ذلیل اور رسوا کرنے کی کوششیں تھیں۔ اب تو کھلی آنکھوں سے اس کے نتائج بھی دیکھ لیے گئے ہیں۔ انڈیا جو بات تواتر کے ساتھ دنیا کے سامنے کرتا رہا، ہمارے ہاں سے ’’ڈان لیکس‘‘ کے طفیل اس پر مہرتصدیق ثبت ہوگئی اور نتیجے میں امریکا سے اس قدر دبائو آیا کہ ریاست کے لیے حافظ سعید اور ان کی جماعت کے خلاف کارروائی کرنے کے علاوہ چارہ نہیں رہا۔ جبکہ دنیا کو مزید مطمئن کرنے کے لیے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے، یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔

پیپلز پارٹی کو یہ بھی اعتراض ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے دور میں مسائل کے حل کے لیے پارلیمنٹ کی بات کی، جبکہ ن لیگ نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ کیا عجیب اتفاق ہے کہ آج اسی مقام پر مسلم لیگ ن کھڑی ہے۔ کہتی وہ بھی یہی ہے کہ مسائل پارلیمنٹ کے ذریعے حل ہوں۔ لیکن پی پی دور میں اسی پارلیمنٹ سے متعلق احسن اقبال نے کہا تھا: ’’لوگ کہتے ہیں آپ پارلیمنٹ کیوں نہیں جاتے؟ ہم پارلیمنٹ 2008ء میں دہشت گردی کی جنگ کی اسٹریٹجی کے لیے گئے۔ ایک متفقہ قرارداد پاس ہوئی، اس کا کیا انجام ہوا؟ اس کے نتیجے میں اپریل 2009ء میں ایک نیشنل سیکیورٹی کی کمیٹی بنی، اس کی رپورٹ آئی، اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ پھر 2 مئی کا واقعہ ہوا، ہم اس پر قرارداد لائے، جب ہم نے اس پر تحقیقات کی بات کی تو اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ایک اور Debate کرلیں گے، ایک اور قرارداد منظور کرلیں گے، شاید اس میمو کی مذمت بھی کرلیں گے، لیکن اس سے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ شفاف تحقیقات ہوں۔ اس (میمو) کا محرک کون ہے اور اس کا جواب ہر پاکستانی جاننا چاہتا ہے۔‘‘

آج جب مسلم لیگ ن پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتی ہے تو مکافاتِ عمل دیکھیے پاکستان تحریک انصاف اور دیگر جماعتیں یہی کچھ دُہراتی ہیں۔ خصوصاً ایسے موقع پر پیپلز پارٹی کے پاس موقع تھا کہ وہ اپنے سارے بدلے چکاتی اور یہ کہتی کہ ــ’’ڈان لیکس سے متعلق بھی ہر پاکستانی جاننا چاہتا ہے‘‘۔ لیکن اس نے یہاں بھی اسے کلین چٹ دی ہوئی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ پیپلز پارٹی جمہوریت کو بچانا چاہتی ہے یا اس کا کوئی اور مفاد وابستہ ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان میں اضافہ ن لیگ نے کیا، جبکہ ن لیگ بھی انہی مشکلات کا شکار نظر آتی رہی۔ لیکن مسلم لیگ ن کی خوش قسمتی کہ اسے پیپلز پارٹی کی طرف سے ٹف ٹائم نہیں ملا۔ مسلم لیگ ن کو یہ احسان کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔

By | 2017-04-22T12:28:39+00:00 February 5th, 2017|Columns|

Comments