پاناما کا ہنگامہ: کون کہاں کھڑا ہے؟

موضوع تو بڑا سنجیدہ ہے، لیکن صورتِ حال اس لطیفے سے زیادہ مختلف نہیں۔ ایک شخص مٹھائی کی دُکان پر گیا اور ایک کلو گلاب جامن کی فرمائش کردی۔ گلاب جامن تول کر دیا گیا تو اس نے کہا کہ یہ واپس کرکے ایک کلو برفی دے دیں۔ گلاب جامن کی جگہ برفی دے دی گئی۔ برفی کا تھیلا دُکان دار سے لے کر وہ شخص دُکان سے نکلنے لگا تو آواز آئی: برفی کے پیسے تو دے دو۔ اس شخص نے جواب میں کہا کہ برفی تو میں نے گلاب جامن کے بدلے لی ہے۔ دکان دار نے کہا: گلاب جامن کے ہی پیسے دیدو۔ تھیلا ہاتھ میں پکڑے شخص نے کہا: گلاب جامن تو میں نے آپ کو واپس کردیا ہے۔ جو چیز واپس ہوئی، اس کے پیسے کیسے دوں؟

دیکھا جائے تو گلاب جامن کے بدلے برفی لینے والا شخص بھی غلط نہیں کہہ رہا اور دُکان دار بھی حق بجانب ہے۔ مگر کون ایسا سادہ ہوگا جو حقیقت حال کو نہ سمجھے۔

پاناما کیس کا معاملہ بھی کچھ عجیب رُخ اختیار کرچکا ہے۔ کنفیوژن ہی کنفیوژن ہے۔ ایک طرف دیکھا جائے تو دو جمع دو چار کی طرح سیدھا، واضح اور دوٹوک حساب ہے۔ بس یہی بتانا ہے کہ لندن فلیٹس کے لیے رقم کہاں سے آئی اور فلیٹس کب اور کیسے خریدے گئے؟ دوسری طرف نظر کی جائے تو کیس کھولتے چلے جائیں، اُلجھتا چلا جاتا ہے۔ مریم نواز کہتی ہیں میں اپنے والد کے زیرکفالت نہیں، مگر دادی کے ہاں رہتی ہوں۔ دادی کے بارے میں پتا چلتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے ہاں رہتی ہیں۔ تحفے تحائف کی بات ہوتی ہے تو پتا چلتا ہے بیٹے نے باپ کو خطیر رقم بطورِ تحفہ دی، باپ نے بیٹی کو اور بیٹی نے والد کو۔ مریم نواز کا پرانا انٹرویو بھی میدان میں آگیا ہے جس میں انہوں نے واضح الفاظ میں تسلیم کیا کہ لندن تو دور کی بات، پاکستان میں بھی میری کوئی جائیداد نہیں۔ جبکہ عدالت کے سامنے ڈاکومنٹس پیش کیے جاتے ہیں تو اس میں جائیداد نکل آتی ہے۔ عدالت کے لیے بھی حقیقت حال تک پہنچنا ضروری ہے اور وہ بار بار کہہ رہی ہے کہ ثبوت پیش کیے جائیں۔ مفروضوں پر کیسے فیصلہ دیں۔

کیس پر ایک نظر ڈالی جائے تو وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے موکل کے حق میں عدالت کے سامنے 6 دن تک دلائل دئیے۔ اس کیس میں دو گھنٹے تک مسلسل بولنے کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا۔ عدالت نے ان کی ستائش بھی کی۔ مگر ان کی ذہانت دیکھیے کہ ’’وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا‘‘ وہی بات لے کر کئی دن تک دلائل اور نظیریں پیش کرتے رہے۔ فریقین کو بھی داد ملنی چاہیے کہ کوئی اعتراض نہ ہوا۔ مخدوم علی خان کیس کو ایک ایسے رُخ پر لے گئے جس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ مگر وکیل کا تو کام یہی ہے اور وہ اسی کے پیسے لیتا ہے۔

سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کیس پر سب سے زیادہ شور شرابا کرنے والی جماعتیں کہاں کھڑی نظر آئیں؟ پاکستان تحریک انصاف کی بات کی جائے تو اس کی طرف سے سینئر وکیل حامد خان میدان میں اُترے، مگر وہ جلد ہی اس سے الگ ہوگئے۔ غالباً انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ یہاں ان کا بہت کچھ دائو پر لگ سکتا ہے۔ نعیم بخاری جیسے سینئر وکیل تحریک انصاف کا مقدمہ لڑنے آئے، مگر وہ بھی بے بس دکھائی دیے۔ ان کے اس جملے کو مخالفین نے خوب اُچھالا کہ اصل وکیل حامد خان تھے، میں تو اسٹپنی وکیل ہوں۔ پھر ان کا یہ جملہ بھی مخالفین نے اُچک لیا کہ کیس وکیل نہیں، موکل ہارتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان جملوں کا خوب مذاق اُڑایا گیا۔

ہوسکتا ہے کہ نعیم بخاری نے یہ سب واقعی ازراہِ تفنن کہا ہو، لیکن اتنے سنجیدہ اور سیریس کیس میں ایسے جملوں کی قیمت کیا ہوسکتی ہے، اس کا اندازہ انہیں یقینا ہوگیا ہوگا۔ خود وکلا برادری میں ان کے ان جملوں کو پسند نہیں کیا گیا۔ ہمارے ہی شو میں سینئر وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد نے کہا کہ وکیل کبھی بھی اسٹپنی نہیں ہوا کرتا، وکیل وکیل ہوتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کہ وکیل کبھی نہیں ہارتا۔ چھوٹے کیسز میں موکل ہارتا ہے مگر ہائی پروفائل کیسز میں صرف موکل نہیں، وکیل بھی ہارتا ہے۔

پاناما کیس میں دوسرا اور اہم فریق جماعت اسلامی رہی۔ اس کے وکیل کی کارکردگی پر بھی کئی سوال اُٹھے۔ یہ بات درست ہے کہ سینئر جج صاحبان نے ہر وکیل سے بڑے سخت اور تندوتیز قسم کے سوالات کیے۔ لیکن جماعت اسلامی کے وکیل کی پوزیشن کچھ زیادہ کمزور نظر آئی۔ بعض مواقع پر وہ غلط سلط معلومات بھی پیش کرتے رہے، جس پر جج حضرات برہم ہوئے۔ یہ جماعت اسلامی کے لیے یقینا سبکی کا باعث بنا ہوگا جب اس کے وکیل سے کہا گیا کہ آپ اپنے موکل کو جتنا نقصان پہنچاسکتے تھے، پہنچاچکے ہیں۔ جماعت اسلامی کو اتنا اہم کیس سیریس انداز میں لینا چاہیے تھا۔

ایک زمانہ تھا جب جماعت اسلامی کا مقدمہ اے کے بروہی جیسے ماہر قانون دان اور سینئر وکیل لڑا کرتے تھے اور وہ اپنی ذہانت سے ہارے ہوئے مقدمے جیت جایا کرتے تھے۔ لیکن آج یہ دن ہے کہ اتنا اہم کیس لڑنے کے لیے ان کے پاس کوئی ماہر وکیل دستیاب نہیں تھا۔ اگرچہ جماعت اسلامی کے راہنما حافظ نعیم الرحمن اس کی یہ توجیہہ پیش کرتے ہیں کہ ہم مہنگا وکیل نہیں کرسکتے، مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ جماعت اسلامی آئے روز احتجاجی مظاہروں اور جلسے جلوسوں پر لاکھوں روپے خرچ کرتی ہے، اگر پاکستان کے تاریخی کیس کے لیے چند جلسے اور جلوس قربان کرتی تو کون سی قیامت آجاتی۔

پاناما کیس پر عدالت فیصلہ دیتی ہے یا جوڈیشل کمیشن کی طرف بات جاتی ہے، یہ فیصلہ اب شاید زیادہ دور نہ ہو، البتہ اس کیس نے ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، تقسیم اور نفرتیں بڑھادی ہیں۔ اس پورے عرصے میں عدالت کے سامنے سیاسی جماعتوں کے نمایندگان ایک دوسرے کے لیے جس قسم کی زبان استعمال کرتے رہے، سن کر سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے بارے میں شرمناک الفاظ کا استعمال ایک طرف، کھلم کھلا ایسی دھمکیاں دی گئیں جو کسی ٹائم بم سے کم نہیں۔ کہا گیا کہ ہر گلی اور چوک میں خون کی ندیاں بہیں گی۔ گلی اور محلوں سے تابوت نکلیں گے۔ یہ دھمکیاں بیانات کی حد تک ہوتیں تو سمجھ آتیں مگر اس کے عملی مظاہرے بھی دیکھنے میں آنے لگے۔ پہلا عملی مظاہرہ پارلیمنٹ ہائوس میں دیکھا گیا جب اس کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ایک دوسرے پر لاتوں، گھونسوں اور مکوں کی بارش کردی گئی۔

کچھ سیاسی راہنما خبردار کررہے تھے کہ جس دن سپریم کورٹ پاناما کیس پر فیصلہ کرے، اس دن اسلام آباد کی حدود میں دفعہ 144 نافذ ہو۔ اسے مبالغہ آرائی سمجھا جارہا تھا۔ مگر پارلیمنٹ کے اندر جو کچھ ہوا، اسے دیکھ کر یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ ہمیں واقعی ایسے خوفناک مناظر کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سپریم کورٹ پر حملہ ہو یا پھر ایک فریق دوسرے پر چڑھ دوڑے، دونوں صورتوں میں دنیا کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پانامہ لیکس پر ہم عالمی سطح پر پہلے ہی سبکی اُٹھارہے ہیں۔ کچھ ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ ڈیوس کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان کو کرپشن پر تقریر نہیں کرنے دی گئی اور اس کی وجہ پاناما لیکس کو قرار دیا جارہا ہے۔ یہ حقیقت ہے یا وزیراعظم کے سیاسی مخالفین کی طرف سے اُڑائی گئی افواہیں، اب تک واضح نہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پانامہ کے ہنگامے نے ملک وقوم کو جس مشکل اور پیچیدہ صورتِ حال میں گرفتار کیا ہے، اس سے نکلنے کے لیے اُمید کی آخری کرن اب سپریم کورٹ ہی ہے۔ دیکھتے ہیں سپریم کورٹ اس مشکل ترین فرض کو کیسے نبھاتی ہے!

By | 2017-04-22T12:28:39+00:00 January 29th, 2017|Columns|

Comments