پیپلز پارٹی کی دو محاذوں پر ناکامی!

کہا جاتا ہے کہ محمود نے ایک روز دربار میں اعلان کیا کہ جسے جو مانگنا ہے، مانگ لے، آج اسے دیا جائے گا۔ سب درباریوں اور وزرا نے مختلف فرمائشیں کیں۔ لیکن محمود کا خادم خاص ایاز اس دن بھی سب سے مختلف نظر آئے۔ وہ محمود کے قریب گیا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ سب کو حیرت ہوئی، مگر یہ کہہ کر ایاز نے سب کو مزید پریشانی میں مبتلا کردیا کہ بادشاہ مل گیا تو سب کچھ مل گیا۔

پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو بہت کم ہی ایسے حکمران ملیں گے جو اپنے بل بوتے اور عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئے ہوں۔ کبھی روس اور کبھی امریکا۔ خصوصاً کئی عشروں سے عوامی سطح پر یہ تاثر بڑے پیمانے پر عام ہوچکا ہے کہ جسے امریکا کی آشیرباد حاصل نہیں، وہ اقتدار کے ایوانوں میں قدم نہیں رکھ سکتا۔ اس میں کتنی حقیقت اور کتنی سچائی ہے، دعوے کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا، تاہم پاکستانی تاریخ کے کچھ اوراق کا مطالعہ کرنے کے بعد اس سے انکار کے لیے ٹھوس دلائل فراہم کرنا بھی آسان نہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری امریکا کے دورے پر ہیں۔ ان کے دورے سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما کہہ رہے تھے کہ آصف علی زرداری کو یہ اعزاز حاصل ہونے جارہا ہے کہ وہ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کریں گے۔ اس کے لیے زبردست قسم کی لابنگ بھی کی گئی تھی۔ لیکن اگلے دن اخبارات میں یہ تفصیلات سامنے آئیں کہ تمام تر کوششوں کے باوجود انہیں تقریب حلف برداری میں شرکت کی اجازت ملی نہ ہی دیگر چینلز سے ڈونلڈ ٹرمپ سے ہاتھ ملانے کی آرزو پوری ہوسکی۔ حرماں نصیبی کی انتہا دیکھیے کہ بارک اوباما کی الوداعی تقریب میں بھی تمام تر بھاگ دوڑ کے باوجود شرکت نہ ہوپائی۔ کہا جارہا ہے کہ آصف علی زرداری اس پر خاصے برہم بھی ہیں۔

دوسری طرف پاکستان میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنی سیاسی اننگز کا آغاز کیا۔ اس سے پہلے پیپلز پارٹی نے پنجاب میں مخدوم سید فیصل صالح حیات کی صورت ایک بڑی وکٹ حاصل کرلی تھی۔ سو، لاہور سے فیصل آباد ریلی کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ یہ ایک اچھا آغاز ہوگا اور بلاول بھٹو پنجاب میں غیرفعال اور ناراض ووٹر کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ لیکن اسے بھی اس طرح پذیرائی نہ مل سکی جس کی توقع کی جارہی تھی۔ اگر اسے ایک ’’فلاپ شو‘‘ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔ گو کہ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے نقشِ قدم پر چل کر شریف خاندان پر خاصے سخت اور تابڑ توڑ حملے کیے۔ انہوں نے جاتی امرا کے محلات اور کسانوں کے ساتھ زیادتیوں کا ذکر بھی کیا مگر عوام کی طرح اخبارات کی شہ سرخیوں میں بھی اپنے لیے کوئی خاص جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

سابق صدر آصف علی زرداری کا امریکا کا ’’ناکام دورہ‘‘ اور بلاول بھٹو زرداری کی ریلی کو بہت زیادہ پذیرائی نہ ملنے سے کیا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنی طبعی عمر پوری کرچکی ہے اور اب 2018ء کے انتخابات آخری فیصلہ کریں گے؟ بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی بقا کی جنگ لڑرہی ہے۔ ایک طرف وہ پاکستان میں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے بھاگ دوڑ کررہی ہے اور دوسری جانب ’’اقتدار کے سرچشمے‘‘ امریکا سے کچھ یقین دہانیاں حاصل کرنے کی سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔ غالباً پیپلز پارٹی کو اندازہ ہوگیا ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں وہ بہتر کارکردگی نہ دکھاسکی اور پچھلے قومی انتخابات کی طرح مایوس کن کارکردگی ہی سامنے آئی تو وہ سندھ تک محدود ہوجائے گی اور کوئی بعید نہیں اگلے سالوں میں سندھ میں بھی کوئی آکر اس خلاکو پُر کرلے۔

یقینا پیپلز پارٹی کے سامنے یہ حقیقت ہوگی کہ پارلیمانی سیاست میں زیادہ عرصے تک پارلیمنٹ سے باہر رہ کر اپنے وجود کو برقرار رکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ خصوصاً جب پیپلز پارٹی میں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی طرح کوئی کرشماتی شخصیت بھی نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری ایک نیا چہرہ ضرور ہیں اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کو ان میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا چہرہ نظر آتا ہے لیکن اشفاق احمد مرحوم کے بقول ’’بڑے لوگوں کے بچے یتیم ہوتے ہیں‘‘ کے مصداق وہ اس وقت ’’یتیم‘‘ دکھائی دے رہے ہیں۔ آصف علی زرداری کے ہوتے ہوئے انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا کھل کر موقع نہیں مل پارہا۔ اعتراز احسن جیسے پیپلز پارٹی کے سینئر راہنما اس کااظہار بھی کرچکے ہیں۔ ریلی سے کچھ دیر پہلے بلاول بھٹو زرداری کو امریکا سے فون آنا اور ہدایات دینے سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ بلاول مکمل طور پر اپنے والد کے زیر سایہ سیاست کررہے ہیں اور کوشش کے باوجود پیپلز پارٹی اس تاثر کو ختم کرنے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکی ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اب بھی اصل میں آصف علی زرداری کے پاس ہے۔ سید فیصل صالح حیات کی پیپلز پارٹی میں دوبارہ شمولیت کے لیے آصف زرداری سے ملاقات اور بلاول کا اس اہم ملاقات میں موجود نہ ہونا اس تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے۔

عوام کی ایک بڑی تعداد آج بھی پیپلز پارٹی سے اُمیدیں وابستہ رکھتی ہے۔ ایک کثیر تعداد آج بھی ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی پارٹی کو مضبوط جماعت کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے اندر بہت سے سینئر رہنمائوں کا خیال ہے کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ آصف علی زرداری تمام اختیارات بلاول کے حوالے کردیں اور انہیں کھل کر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیں۔ ان کی اس بات میں ایک لحاظ سے وزن بھی دکھائی دیتا ہے کہ بلاول بھٹو کے دامن پر اب تک کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ پیپلز پارٹی لاکھ کہے کہ کرپشن کا ایک روپے آصف علی زرداری پر بھی ثابت نہیں ہوسکا، لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس وقت پیپلز پارٹی کرپشن کا استعارہ بن گئی ہے۔ پی پی کے بارے میں کرپشن کا یہ تاثر اس خوفناک حد تک عام ہوچکا ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف بات کرتی ہے تو بہت سے چہروں پر ’’شریر مسکراہٹ‘‘ پھیل جاتی ہے۔ اب تو پیپلز پارٹی کے اپنے سینئر رہنمائوں کی زبانیں بھی ’’پھسلنا‘‘ شروع ہوگئی ہیں اور دوسروں کو کرپٹ کہتے کہتے اپنے قائدین کے ہی نام زبان پر آجاتے ہیں۔

اس سب کے باوجود آصف علی زرداری ایک ذہین سیاست دان ہیں۔ انہوں نے کئی مشکل مواقع پر اپنے آپ کو منوایا ہے۔ وہ اس صورتِ حال کا ادراک رکھتے ہوں گے۔ کوئی بعید نہیں کہ وہ اگلے انتخابات سے قبل کوئی سرپرائز دیں۔ اگرچہ اب تک زمینی حقائق سے یہی لگ رہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی واقعی مشکلات کا شکار ہے اور ان مشکلات سے نکلنے میں اس کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا دورہِ امریکا معاون ثابت ہورہا ہے اور نہ ہی بلاول بھٹو زرداری کے تابڑ توڑ حملے اور گرم جوش تقریریں کام آرہی ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!

By | 2017-04-22T12:28:39+00:00 January 25th, 2017|Columns|

Comments