آئی جی سندھ کی تبدیلی: اداروں کی بالادستی کی آخری جنگ؟

ہوسکتا ہے باقی دنیا کے لیے یہ معمول کی خبر ہو۔ لیکن ہمارے لیے غیرمعمولی ہے۔ یہ پیر کا دن اور جنوری کی دوسری تاریخ تھی۔ پولیس وزیر اعظم کے گھر پہنچی۔ ان سے تین گھنٹے تک تفتیش کی۔ اس دوران میں وزیر اعظم سے کئی مشکل سوال کیے گئے۔ چند ہی دن بعد ایک بار پھر ضرورت محسوس ہوئی تو وزیر اعظم کو دوبارہ تفتیش کے لیے بٹھادیا گیا۔ دائرہ مزید بڑھا تو خاندان کا نام بھی سامنے آگیا۔ سو، وزیر اعظم کی اہلیہ اور ان کے بیٹے سے معلومات لینا ضروری ٹھہرا۔ 19 جنوری کو ایک اور ٹیم گھر آئی اور وزیر اعظم کی اہلیہ اور بیٹے سے چار گھنٹے کی تفتیش کرکے چلی گئی۔ وزیر اعظم پر الزام تھا کہ انہوں نے آسٹریلیا کے ایک کھرب پتی تاجر سے سگار، قیمتی شراب اور میوزک کنسرٹ کے ٹکٹس لیے ہیں۔ جبکہ دورہِ برطانیہ میں ملکی خزانے کا پیسہ غیرضروری طور پر خرچ کیا۔ ان الزامات پر پولیس اب تک وزیر اعظم سے چار بار تفتیش کرچکی ہے۔ پولیس نے 7 مارچ کو آخری تفتیش کے بعد اعلان کیا ہے کہ تحقیقات آخری مراحل میں ہیں۔

یہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہیں۔ وہ مجرم ہیں یا بے قصور؟ ان کے جرم میں اہل خانہ کس حد ملوث ہے؟ اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ واقعہ لکھنے کا مقصد بس صرف یہ بتانا ہے کہ دنیا میں ایسی جگہیں بھی پائی جاتی ہیں جہاں اعلیٰ ترین شخصیات سے ان کی پولیس تفتیش کرتی ہے۔ نہ صرف وزیر اعظم، بلکہ اہل خانہ کو بھی گھنٹوں بٹھاکر پوچھ گچھ کی جاسکتی ہے۔ آپ ذرا تصور کریں یہی کچھ ہمارے ہاں ہوتا تو کتنا بڑا بھونچال آچکا ہوتا۔ ’’جمہوریت‘‘ خطرے میں پڑچکی ہوتی۔ ایسا کرنے والے اہلکاروں اور افسران کو وہ سبق سکھایا جاتا کہ ان کی آیندہ نسلیں بھی یاد رکھتیں۔ یقین نہ آئے تو آئی جی سندھ کو ہی دیکھ لیں۔ اے ڈی خواجہ کا قصور کیا ہے؟ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر راہنما اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ان سے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ایک اچھے افسر ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ فرماتے ہیں کہ اے ڈی خواجہ ایماندار آدمی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے تمام راہنما کہتے نہیں تھکتے کہ بھلے آدمی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہیں ’’نشان عبرت‘‘ بنانے کی اب تک تین کوششیں کی جاچکی ہیں۔

آخری کوشش کس قدر جلدبازی میں کی گئی۔ اس سے اندازہ لگالیں کہ 4 اپریل ذوالفقار علی بھٹو کی برسی تھی۔ سندھ میں چھٹی کا دن، مگر کابینہ کے اجلاس کے لیے نوٹیفکیشن جاری ہوگیا۔ اجلاس کا ایجنڈا تک خفیہ رکھا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ خصوصی طور پر اس لیے بلایا گیا کہ اے ڈی خواجہ سے جان چھڑائی جائے۔ ان کا جرم کیا ہے؟ کہا جارہا ہے کہ بڑا ’’جرم‘‘ یہ ہے کہ آصف علی زرداری کے ایک قریبی دوست کو ناراض کربیٹھے ہیں۔ بدین میں پولیس کسانوں کو مجبور کرتی رہی کہ وہ گنّا شریک چیئرمین کے قریبی دوست کی شوگر مل کو فروخت کریں گے۔ اے ڈی خواجہ نے پولیس افسران کو ان کا فرض یاد دلایا۔ یقیناً انا کو دھچکا لگا ہوگا۔ سابق صدر ایک انٹرویو میں چیئرمین نیب کے لیے جس قسم کا لہجہ اختیار کرچکے ہیں اور جس انداز سے انہیں ان کی ’’اوقات‘‘ یاد دلاچکے ہیں، ایک پولیس افسر کا یہ رویہ ان کی ’’انا‘‘ کے لیے یقیناً یہ کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں ہوگا۔ ہمارے شو میں پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صدر سردار یار محمد رند بڑے واضح الفاظ میں کہہ رہے تھے کہ سندھ میں کسی کے اندر آصف زرداری کے خلاف بولنے کی جرات نہیں۔ بھلا وہ شخص اے ڈی خواجہ کو بطورِ آئی جی سندھ قبول کرسکے گا جس نے ایک نہیں، کئی بار اس سے بغاوت کی ہو؟

پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ہمیں آئینی طور پر اختیار ہے کہ جسے چاہیں، آئی جی بنائیں۔ مان بھی لیتے ہیں کہ کسی آئی جی کو بدلنا صوبے اور وزیر اعلیٰ کا آئینی حق ہے۔ مگر آخر سندھ میں ہی یہ ’’آئینی ضرورت‘‘ آئے روز کیوں پڑتی رہتی ہے؟ پاکستان پیپلز پارٹی کے 9 سالہ اقتدار کا جائزہ لیں تو اب تک اپنے صوبے میں 14آئی جیز بدل چکی ہے۔ شعیب سڈل جیسا ایماندار افسر یہاں صرف 2 ماہ 18 دن ہی گزار پاتا ہے۔ تمام صوبوں میں یہ سب سے بدترین ریکارڈ ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس اس کا ’’آئینی جواز‘‘ ضرور ہے، مگر وہ کبھی اس کا جواب دینے کی زحمت نہیں کرتی کہ اچھی شہرت کے حامل افسران انہیں زیادہ عرصہ کیوں راس نہیں آتے؟ پیپلز پارٹی کو اس پر سوچنا چاہیے۔ سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے لیے بھی سوچنے کا مقام ہے کہ اداروں کے اعلیٰ افسران کی یہ بے توقیری کرکے ہم کتنا بڑا نقصان اُٹھارہے ہیں۔ آج اے ڈی خواجہ ’’نشانِ عبرت‘‘ بنے تو کل کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ وہ ناجائز مطالبات کو ماننے سے انکاری ہوسکے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہا تو مستحکم اداروں کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔

میں یاد دلائوں کہ ان سیاسی مداخلتوں نے ہمارے بہت اچھے اداروں کو تباہی کے دہانے لاکھڑا کیا ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز فولاد کا واحد ادارہ اور اس ملک کے لیے سونے کی چڑیا جیسی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر اس وقت 200 ارب کا مقروض، ملازمین تنخواہوں کے لیے دربدر، اور 14 ہزار خاندانوں کا مستقبل تاریک تر ہے۔ پی آئی اے وہ ادارہ تھا جس نے کئی عالمی اداروں کو تربیت فراہم کی۔ مگر آج تقریباً 2 کھرب روپے کی مقروض۔ جہاز اُڑانے سے پہلے کالے بکروں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ بطورِ ادارہ پاکستان ریلوے کی حالت قابلِ ستائش نہیں۔ حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ ایف بی آر کی کارکردگی حالیہ پاناما کیس میں سب نے دیکھ لی۔ نیب کا ذکر کیا جائے تو سپریم کورٹ پہلے ہی اس پر فاتحہ پڑھ چکی ہے۔ اداروں کو اس حال تک پہنچانے میں اہم ترین رول ایسی ہی ’’سیاسی مداخلتوں‘‘ کا رہا ہے۔ ہر سیاسی جماعت کی کوشش ہوتی ہے کہ ’’ہمارے‘‘ ہی لوگ اداروں میں ’’اِن‘‘ ہوں اور کوئی ہمارے حکم سے سرتابی نہ کرسکے۔ یاد رہے اداروں میں کام کرنے والے ملازمین ریاست کے ملازم اور وفادار ہوتے ہیں۔

خصوصاً پولیس ریاست کی وفادار اور عوام کی جان ومال کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ پولیس کی کمزوری عوام میں عدم تحفظ کو بڑھاتی ہے۔ پولیس کمزور ہوئی، جرائم کی شرح میں اضافہ ہوگیا۔ کراچی اور پنجاب میں پولیس مضبوط ہوتی تو کبھی رینجرز کی ضرورت نہ پڑتی۔ نہ ہی ہر کام کے لیے فوج کی خدمات حاصل کرنے کی حاجت ہوتی۔ مگر بدقسمتی سے ہمیں پولیس سیاست دانوں اور حکمرانوں کی ذاتی ملازمت کرتی نظر آتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں بہت حد تک پولیس کو غیرسیاسی بنادیا گیا ہے۔ مگر پنجاب میں آج بھی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ڈیروں پر پولیس افسران حاضریاں دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جو ایسا کرنے سے انکار کردے، اسے نشانِ عبرت بنادیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں سرداروں کے سامنے اعلیٰ افسران کو جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ اندرون سندھ ایس ایچ او وڈیرے کے قدموں میں بیٹھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جبکہ کراچی میں آج بھی اکثر تھانوں کی باقاعدہ بولیاں لگتی ہیں۔ تھانے سیاسی بنیادوں پر تقسیم ہوتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت اپنی مرضی کا ایس ایچ او لگانے کی آرزو مند نظر آتی ہے۔

دو ہفتے قبل میں اپنے شوز کے لیے کراچی گئی۔ ایس ایس پی ملیر نے بتایا کہ ہم سیاسی مداخلت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔ ہمیں کھل کر کام کرنے نہیں دیا جاتا۔ پولیس کو خوف ہوتا ہے اگلی حکومت کوئی اور آئی تو ہمارا کیا بنے گا۔ یہ خوفناک انکشاف بھی ہوا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وارداتوں کے اکثر ثبوت ضائع کیے جاچکے ہیں اور یقینا اس میں سیاسی جماعتیں ہی ملوث ہوں گی۔ مجھے انتہائی تکلیف دہ مراحل سے اس وقت گزرنا پڑا جب پولیس افسر چوہدری اسلم شہید کی اہلیہ سے بات ہوئی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رورہی تھیں۔ وہ بتارہی تھیں کہ جس کو ساری دنیا سلام کرتی تھی، اس کے جانے کے بعد ہمارا کوئی پرسان حال نہیں۔ میں انہیں دلاسا دینے کے سوا کچھ نہیں کرسکی۔ مجھے معلوم ہے کہ ہم محسنوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔ اے ڈی خواجہ کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے۔ ان کا جرم یہ بتایا جارہا ہے کہ وہ پولیس کو بطورِ ادارہ سیاسی اثرورسوخ سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ پولیس کو ایک طاقتور اور آزاد فورس کے طور پر دیکھنے کے آرزومند ہیں۔ دیکھتے ہیں اداروں کی بالادستی اور سیاست کی جنگ میں کس کی فتح ہوتی ہے اور کون شکست سے دوچار ہوتا ہے!

By | 2017-04-22T12:28:39+00:00 April 9th, 2017|Columns|

Comments