کراچی کا امن… کریڈٹ کس کو ملنا چاہیے؟

فرانس کے عظیم فاتح نپولین بوناپارٹ سے ایک دلچسپ واقعہ منسوب ہے۔ ایک جنگ کے دوران کچھ روسی فوجی افسران گرفتار کرکے اس کے سامنے لائے گئے۔ دشمن کی قید میں ہونے کے باوجود ان روسی فوجیوں کی ’’اکڑ‘‘ میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ انہی میں سے ایک افسر نے نپولین کو مخاطب کرکے کہا: ’’ہم ایک برتر قوم ہیں۔ فرانس کے ساتھ مقابلہ کیا جائے تو اس سے ہزار گنا بہتر۔‘‘ اپنی مثال دیتے ہوئے گرفتار افسر نے کہا: ’’روسی قوم عزت کی خاطر لڑتی ہے۔ جبکہ آپ لوگ صرف مالی مفاد کی خاطر جنگ کرتے ہیں۔‘‘ نپولین نے برجستہ اور دلچسپ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا: ’’تمہاری بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص اسی چیز کی خاطر لڑتا ہے، جو اس کے پاس موجود نہیں ہوتی۔‘‘

چند روز قبل گورنر سندھ محمد زبیر نے ترنگ میں آکر کافی کچھ بول دیا کہ جنرل (ر) راحیل شریف کو میڈیا نے سر پر اس طرح چڑھا دیا گویا علامہ اقبال کے بعد کراچی میں امن کا خواب انہوں نے دیکھا ہو۔ وہ ایک عام آدمی اور جنرل تھے۔ یہ بھی فرمایا کہ کراچی میں امن کا سو فیصد کریڈٹ وزیراعظم نواز شریف کو جاتا ہے۔ اس سے چند دن پہلے بھی گورنر سندھ نے کہا تھا کہ راحیل شریف نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ وہ آرمی چیف بن جائیں گے۔ بہت سے لوگ ان کی اس بیوقت کی راگنی پر حیران ہیں کہ جب حکومت اور خود شریف فیملی پانامہ کیس میں پھنسی ہے، اور فیصلے کا انتظار حلق کو آیا ہوا ہے، آخر کیا ضرورت آن پڑی؟ لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، الیکشن سر پر ہیں اور سیاسی جماعتوں کے لیے چھوٹے بڑے ’’کارناموں‘‘ کا ’’کریڈٹ‘‘ لینا مجبوری ہوتی ہے۔ چاہے وہ ادھورے منصوبوں کے فیتے کاٹنے کی صورت ہو یا دوسروں کی تذلیل کرکے اپنا جھنڈا گاڑنے کی شکل میں۔ نپولین کے فقرے کا مفہوم مستعار لیا جائے تو اس وقت حکومت کو بھی ’’کریڈٹ‘‘ کی ضرورت ہے اور اسی کی خاطر گورنر سندھ ’’لڑنے‘‘ پر مجبور ہوئے ہیں۔

یہ منتخب اور جمہوری حکومت کا حق ہے کہ وہ اپنے دور میں ہونے والے کارناموں کا کریڈٹ لے، لیکن ایسا کرتے ہوئے انصاف کا دامن ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔ گورنر سندھ ایک پڑھے لکھے اور باشعور شخص ہیں اور انہوں نے ایک دنیا بھی دیکھ رکھی ہے۔ ان کی طرف سے کراچی کے امن کا سو فیصد کریڈٹ وزیراعظم کو دینا ایک طرف ناانصافی تو ہے لیکن دوسری طرف غیرمنطقی بھی ہے۔ کراچی میں امن کی بات ہو تو سپریم کورٹ کے کردار کو نہیں بھلایا جاسکتا۔ طویل عرصے تک اس شہر میں عدالت نہ لگتی تو دہشت گردی میں ملوث سیاسی عناصر کبھی ایکسپوز نہ ہوتے۔ رینجرز یہاں قربانیاں نہ دیتی تو شہر میں امن ایک خواب اور خیال ہوتا۔ اس شہر کا سو فیصد کریڈٹ وزیراعظم کو ہی جاتا اگر اس شہر سے آپریشن کے خلاف اُٹھنے والی آوازیں بھی ان کے خلاف ہی سنائی دیتیں۔ لیکن ایسا کہیں سنائی دیا نہ ہی دکھائی۔ آپ کو یاد ہوگا کراچی میں ایک اہم سیاسی جماعت کے بانی جب بھی گرجے، پاک فوج، رینجرز کے خلاف ہی برسے۔ یہاں وہ الفاظ نقل کرنے کی ہمت نہیں کہ کس طرح وقت کے آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی رینجرز سے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔ ٹی وی چینلوں پر پوری قوم نے وہ سب سنا۔ اگر واقعی کراچی میں امن کا خواب وزیراعظم نے دیکھا ہوتا اور اس کے نقشے میں رنگ وہی بھرتے تو دوچار جملے ان کی ’’تعریف‘‘ اور ’’مدح سرائی‘‘ میں بھی ضرور سننے کو ملتے۔

گورنر سندھ کی طرف سے کراچی میں امن کا کریڈٹ وزیراعظم کو دینے کے بعد کوئی بعید نہیں کہ ملک میں ہونے والے آپریشنز، ضربِ عضب اور ردالفساد کا کریڈٹ بھی اپنے کھاتے میں ڈال لیا جائے۔ حالانکہ مقتدر جماعت ہونے کے باوجود ن لیگ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ ’’سنجیدگی‘‘ نہیں دکھائی جس کی اُمید کی جانی چاہیے تھی۔ نیکٹا جیسا ادارہ، جسے نیشنل ایکشن پلان میں انتہائی اہمیت حاصل تھی، تین سالوں میں بار بار کے دعوئوں کے باوجود فعال نہ ہو سکا۔ اس کا صرف ایک اجلاس ہی منعقد ہوسکا۔ اسے ایک اعشاریہ 8 بلین روپے کی ضرورت تھی، لیکن 109 ملین دے کر جان چھڑا لی گئی۔ اس ادارے میں 700 اسامیاں پُر کرنی تھیں، مگر اس وقت صرف 130 افرا دکام کررہے ہیں۔ کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں وفاقی حکومت اور اس کی کارکردگی سے متعلق جو کچھ کہا گیا، وہ سارے رازوں کا پردہ فاش کرنے کے لیے کافی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور اس کی کامیابی کا کریڈٹ بھی حکومت لینے کی کوشش کرتی ہے، لیکن کوئی سوال کرے کہ اس کے 20 نکات تھے، فوجی عدالتیں ان میں سے صرف ایک نکتہ تھا۔ باقی 19 میں سے اکثر سویلین حکومت کی ذمہ داری تھی، ان میں سے وہ کس حد تک اپنا کردار نبھانے میں کامیاب رہی؟

فوجی عدالتوں کے معاملے میں بھی حکومتی سنجیدگی سب دیکھ چکے ہیں۔ 6 جنوری کو دو سالہ مدت ختم ہوئی تو حکومت نے واضح اعلان کیا کہ اب فوجی عدالتوں کو مزید توسیع نہیں دی جائے گی۔ سوال ہوا کہ فوجی عدالتیں نہ رہیں تو پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک کیسے پہنچایا جائے گا؟ کیا کریمنل جسٹس سسٹم اتنا مضبوط ہوچکا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جج فیصلے دے سکیں اور کیا ملک میں دہشت گردوں کا صفایا ہوگیا ہے کہ اب گواہان پوری آزادی کے ساتھ پیش ہوکر گواہی دینے آئیں؟ سویلین حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے سنجیدہ ہوتی تو ان دو سالوں میں فوجی عدالتوں کا متبادل ضرور لاتی۔ کل کو حکومت اس کا بھی کریڈٹ لینے کی کوشش کرے گی کہ ہم نے دہشت گردوں کو سزائیں دلوائیں۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ دوسری بار توسیع میں حکومت کتنے روڑے اٹکاتی رہی۔ 6 جنوری کو مدت ختم ہوئی اور 28 مارچ کو دوبارہ سینیٹ سے اس کی منظوری ہوتی ہے۔ پورے دو ماہ 22 دن بعد حکومت اس میں ’’کامیابی‘‘ حاصل کی۔ پاکستان تحریک انصاف روزِ اول سے اس بل کی منظوری میں ساتھ، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی سے منوانا بھی ہرگز مشکل نہیں تھا، لیکن ’’بوجوہ‘‘ معاملہ مسلسل تاخیر کا شکار رہا۔

مختصر یہ کہ ہمیں سیاسی مفاد کے لیے اداروں اور ان کے سربراہان کو متنازع نہیں بنانا چاہیے۔ یاد پڑتا ہے کہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے دور میں ہر ایک ان کی مدح سرائی کرتا رہا۔ انہیں ’’جمہوریت کا نگہبان‘‘ قرار دیا جاتا رہا، لیکن ان کے جاتے ہی ان پر بھی تنقید کے نشتر اسی طرح برسنا شروع ہوگئے تھے۔ انہیں ’’چوروں کی سرپرستی‘‘ تک کا طعنہ دیا گیا اور ان کے بھائی پر کرپشن کے الزامات لگے۔ حالانکہ انہی کے دور میں اُسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن ہوا۔ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ میں اتنی جرات نہیں تھی کہ کھل کر تنقید کرسکتا۔ اس وقت کے اخبارات اُٹھا کر دیکھ لیجیے، میاں نوازشریف سے عمران خان تک، سب وکیل بن گئے تھے، لیکن حسین حقانی کے مضمون کے بعد آپ نے ایک بار پھر دیکھا ہوگا کہ ان سے متعلق کیسی کیسی آرا سامنے آئیں۔ ایک طرف اُسامہ بن لادن کی موجودگی کا ذمہ دار انہیں ٹھہرایا گیا۔ دوسری طرف ان پر امریکا، سعودی عرب کے کہنے پر اقتدار نواز شریف کی جھولی میں ڈالنے کے الزامات لگے۔ ایسے رویے ایک طرف طوطا چشمی کی بدترین مثالیں ہیں تو دوسری جانب اس تاثر کو مزید تقویت دینے کا باعث کہ سویلین اپنے معمولی مفاد کی خاطر اپنے ہی اداروں اور ان کے سربراہان کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے! اپنی ’’بوٹی‘‘ کی خاطر کسی کی پوری بکری ذبح کردینے کا یہ رویہ اب ترک کرنا ہوگا۔ اسی میں سویلین اور فوجی تعلقات کی بہتری ہے۔

By | 2017-04-22T12:28:39+00:00 April 10th, 2017|Columns|

Comments