روہنگیا لہو لہو! – عاصمہ چوہدری

بعض تصاویر انسانی زندگی کے لیے روگ بن جاتی ہیں۔ چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے، ان کا خیال چین نہیں لینے دیتیں۔ ہر وقت آنکھوں کے سامنے پھڑپھڑاتی آپ کے صبر کا امتحان لیتی نظر آتی ہیں۔ کچھ ایسی ہی تصاویر گزشتہ کچھ دنوں سے زیرگردش ہیں۔ چاہ کر بھی ان سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ان میں سے ایک تصویر ایسی ہے جس نے روح کو چھلنی اور دل کو زخمی کررکھا ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا معصوم بچہ ہے جو اپنی ماں کے ساتھ لپٹا ہوا ہے۔ ماں کی روح دنیا کے دُکھ، درد اور صعوبتوں بھری قید سے آزاد ہوچکی ہے۔ اس کے جسم کو جس لباس نے ڈھانپ رکھا تھا، اب وہ برائے نام رہ گیا ہے۔ جبکہ معصوم بچے کو علم نہیں کہ دنیا میں اس کی سب سے قیمتی متاع لٹ چکی ہے۔ اس کی ماں اب اسے کبھی سینے کے ساتھ نہیں لگاسکیں گی۔ وہ سایہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اُٹھ ہوچکا ہے جس کے نیچے اسے چین کی نیند آیا کرتی تھی۔

یہ تصویر میانمار سے آئی ہے۔ جہاں ظلم وستم کی نئی تاریخ رقم ہورہی ہے۔ کہا جارہا ہے بہت سی تصاویر غیرحقیقی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ مبالغہ آرائی سے بھی کام لیا جارہا ہو، لیکن حقیقی رپورٹنگ کرنے والے مغربی میڈیا میں جس قسم کی تفصیلات آرہی ہیں، وہ بھی خون کے آنسو رُلادینے والی ہیں۔ ’’دی ٹیلی گراف‘‘ نے لکھا کہ بچوں کے سر قلم کیے جارہے ہیں۔ انسانوں کو زندہ جلایا جارہا ہے۔ بینکاک میں انسانی حقوق کے ایک گروپ ’’فورٹیفائی رائٹس‘‘ نے انتہائی دلدوز تفصیلات پیش کیں۔ کچھ ایسے لوگوں سے انٹرویوز کیے گئے جو ایک گاؤں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک موقع پر ہمارے سامنے خواتین اور بچوں سمیت 200 افراد کو چشم زدن میں تہہ تیغ کردیا گیا۔

’’دی گارجین‘‘ نے رپورٹ کیا کہ فوجی اہلکاروں نے روہنگیا مردوں کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار کیا۔ انہیں ایک بڑی جھونپڑی میں دھکیلا اور اس جھونپڑی کو آگ لگادی گئی۔ انسانی حقوق کے ادارے ’’فورٹیفائی رائٹس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے فرار ہونے والے ایک شخص نے بتایا کہ میرے دو بھتیجوں کے سر قلم کردئیے گئے۔ ان میں سے ایک کی عمر 9 سال جبکہ دوسرا صرف 6 برس کا تھا۔ اسی رپورٹ کے اندر ایسی ہولناک داستانیں ہیں کہ انسان کانپ کر رہ جائے۔ کیا ایک انسان اس قدر سفاک ہوسکتا ہے کہ محض زبان، رنگ اور نسل کی بنیاد پر اپنے ہی جیسے انسانوں کو خاک وخون میں تڑپادے؟ آج ہم گلوبل ویلج میں رہ رہے ہیں، لیکن کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس میں ایسی مخلوق بھی آباد ہے جو چلتے پھرتے انسانوں کو صرف اس بنیاد پر تہ تیغ کررہی ہے کہ یہ ان کی نسل سے تعلق نہیں رکھتے یا مستقبل میں ان کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں؟

آج میانمار کے مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ شناخت کا بن چکا ہے۔ 12 لاکھ انسانوں کو کوئی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بنگلہ دیش انہیں اپنے بدن کا حصہ سمجھنے کے لیے تیار ہے نہ ہی میانمار انہیں آئینی طور پر شہریت تسلیم کرنے کے حق میں۔ دنیا میں کوئی گوشہ نہیں جہاں وہ اپنی شناخت کے ساتھ جی سکیں۔ وہ دنیا بھر میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آپ دنیا کے کسی حصے میں چلے جائیں، آپ کو بہت معمولی اُجرت کے بدلے یہ مظلوم قوم ہر کام کرتے نظر آئے گی۔ ان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس بڑی دنیا میں ان کی کوئی چھوٹی دنیا نہیں۔ یہ مظلوم مسلمان پاکستان کے محسن ہیں۔ انہوں نے اپنے تئیں اپنی قسمت کا فیصلہ پاکستان کے ساتھ کررکھا تھا۔ جب آزادی کی تحریک چل رہی تھی۔ اس وقت روہنگیا نے زبردست تحریک چلائی تھی کہ اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہوجائے۔ روہنگیا مسلمان آج بھی ہمارے ساتھ قلبی تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن ہم ان کے ساتھ وفا نہیں کررہے ہیں۔

میانمار میں مظلوم اقلیت کے ساتھ ہونے والے ظلم پر ہمارا فرض بنتا تھا کہ ہم اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو اُٹھاتے۔ ہماری ذمہ داری تھی کہ مسلمانوں کی تنظیم او آئی سی کا اجلاس بلاتے اور بے سروسامانی کی حالت میں زندگی کے کٹھن دن گزارنے والے ان انسانوں کا مقدمہ رکھتے۔ ترکی نے اس سلسلے میں کئی اقدامات کیے۔ اسے خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔ اس نے بنگلہ دیش کو یہ پیش کش کی تھی کہ وہ انہیں اپنے ملک میں پناہ دے، ہم تمام اخراجات کی ذمہ داری اُٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ ترک خاتون اول اور وزیر خارجہ کا بنگلہ دیش میں برمی مسلمانوں کے کیمپوں میں جانا اور انہیں گلے لگانا بھی ان کے لیے دلوں میں محبت پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ لیکن ہم نے کیا کیا؟ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہم سے بہتر تو مالدیپ تھا۔ 115 میل پر مشتمل ایک چھوٹا سا ملک جس کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں۔ اس نے حمیت کا مظاہرہ کرکے میانمار کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کردئیے۔

میانمار کا مسئلہ باضمیر دنیا کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ دنیا کو اس طرف توجہ دینی ہوگی۔ اسے سوچنا ہوگا کہ میانمار کا مسئلہ پہلے نسلی بنیادوں پر تھا، اب اس میں مذہب بھی شامل ہوچکا ہے۔ زبان، رنگ اور نسل کی لڑائی بڑی خوفناک ہوتی ہے، لیکن جب مذہب کا عنصر غالب ہوجائے تو پھر جنگ کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے امن کے لیے خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ بدھ مت جو امن اور شانتی کا درس دیتا ہے، اس کے پیروکار مسلح ہوکر اپنے شدت پسند راہنماؤں کے رحم وکرم پر ہیں۔ وہ اپنے پیروکاروں کو یہ باور کرارہے ہیں کہ مسلمان میانمار پر قابض ہوکر ہمیں بے دخل کردیں گے۔ اسی خوف کے سبب وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار نظر آتے ہیں۔ بدھ مت پیروکاروں کے کئی بڑے ادارے اس وقت انتہا پسندی کی ترویج کررہے ہیں۔ لیکن انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔

اگر دنیا کے باضمیر طبقات نے اس طرف توجہ نہ دی تو ایک سنگین بحران کھڑا ہوسکتا ہے۔ عالمی قوتوں کو سوچنا چاہیے کہ جن اقوام کو انصاف نہیں ملتا وہ دوسروں کے لیے اذیت کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس وقت دنیا کے مختلف خطوں میں 11 لاکھ کے قریب برمی ہیں۔ کہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے یہ برمی دنیا کے لیے چلتا پھر بم نہ بن جائیں!

By | 2017-10-29T16:55:32+00:00 September 10th, 2017|Columns|

Comments